|

وقتِ اشاعت :   April 25 – 2016

صحبت پور: بی این پی بلوچوں کو متحد کرنے کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے فرسودہ قبائلی جاگیردارانہ رشتوں کا خاتمہ وقت و حالات کی ضرورت ہے سیاسی شعوری اور فکری جدوجہد کو تقویت دیتے ہوئے اکیسویں صدی کے تقاضوں کے عین مطابق ہمیں علم اور قلم کو اپنا ہتھیار بنا کر بلوچ تاریخ ‘ تہذیب و تمدن کی حفاظت کرنی ہوگی بی این پی حقیقی حوالے سے مڈل کلاس جماعت ہے جس کی قیادت سیاسی ورکر کر رہے ہیں سردار اختر جان مینگل قبائلی سردار نہیں بلکہ بلوچوں کے رہبر ہیں جنہوں نے خان گڑھ ‘ ماہی کولاچی اور ڈیرہ جات کے بلوچوں کو متحد کیا ان خیالات کا اظہار بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ ‘ مرکزی ہیومن رائٹس سیکرٹری موسی بلوچ ‘ مرکزی کمیٹی کے ممبران میر نذیر احمد کھوسہ ‘ واجہ یعقوب بلوچ ‘ میر عبدالغفور مینگل ‘ ضلعی صدر جھل مگسی سعید ننگر شاہ ‘ سبی کے ضلعی صدر حمید بلوچ ‘ ضلع بولان کے آرگنائزر ملک اسد بنگلزئی ‘ غلام علی بنگلزئی جنرل سیکرٹری نصیر آباد ‘ ضلعی صدر جیکب آباد گلاب خان مینگل ‘ ضلعی صدر صحبت پور عبدالحمید کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بقاء بلوچ سے سر انجام دیئے اس موقع پر محمد رفیق بلوچ ‘ سلطان دھپال اور دیگر بھی موجود تھے صحبت پور میں پارٹی کے چار تحصیل کابینہ کی حلف برادری بھی کی گئی آغا حسن بلوچ نے حلف لیا اس موقع پر ضلعی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بی این پی آج بلوچوں کی سب سے بڑی قوت بن چکی ہے ڈیرہ جات کے بلوچ علاقے ‘ ما ہی کولاچی کی سرزمین ‘ خان گڑھ اور بحر بلوچ ‘ رخشان ‘ سراوان ‘ جھالاوان سمیت مری کوہستان سمیت بلوچستان بھر میں پارٹی ایک سیسہ پلائی دیوار بن چکی ہے پارٹی پروگرامز میں بڑی تعداد میں بلوچوں کی شرکت سے ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ اب باشعور ہو چکے ہیں انہیں اس بات کا علم بھی ہے کہ سردار اختر جان مینگل بلوچوں کے رہبر ہیں نہ کے ایک قبیلے کے سردار ‘ پارٹی بلوچستان میں فرسودہ قبائلی جاگیردارانہ رشتوں کے خاتمے کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اسی لئے آج پارٹی قیادت مڈل کلاس اور بی ایس او کے فارغ التحصیل ساتھی کر رہے ہیں عملی طور پر قبائلی فرسودہ رشتوں کو بلوچستان کیلئے مسئلہ سمجھتے ہیں پارٹی بلوچ قوم کو متحد کر رہی ہے کیونکہ وقت و حالات کی ضرورت بھی یہی ہے کہ ہم شعوری ، فکری ، سیاسی نظریاتی جدوجہد کوتقویت دیں اگر تقویت نہ دی تو ہمارے قومی اجتماعی مسائل حل نہیں ہوسکتے اکسیویں صدی کے تقاضوں کے عین مطابق ہمیں علم و قلم کو اپنا ہتھیار بنا کر ہزاروں سالوں پر محیط مہر گڑھ کی تاریخ کو بچانا ہوگا یہ سرزمین ہمیں کسی نے خیرات میں نہیں دی بلکہ بلوچ اکابرین اور ہمارے آباؤاجداد نے قربانیاں سرزمین کی آبیاری کی اور اسی مقصد کو ہم آگے بڑھا رہے ہیں سرزمین کی بقاء و حفاظت ہماری اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے مقررین نے کہا کہ اکیسویں صدی کے تقاضوں کے عین مطابق ہمیں اپنے مشن کو جدید بنیادوں پر استوار کرنا پڑے گا آج ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم بلوچ نوجوانوں کو علم و آگاہی کی جانب راغب کریں جب ہم انہیں کہیں گے کہ قلم ہی ہمارا ہتھیار ہے اسے کے حصول سے ہم بہتر انداز میں بلوچ وطن کی حفاظت اور سرزمین کی بقاء کی سیاسی و جمہوری انداز میں جنگ لڑ سکیں گے پارٹی عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے اور عوام کو فعال ، متحرک اور منظم شعوری فکری سوچ کو پروان چڑھانے کے بعد ہی ہم اپنے نصب العین کو حاصل کر سکیں گے وقت و حالات کی ضرورت ہے کہ ہم سردار اختر جان مینگل جو بلوچوں کے رہبر ہیں ان کے ہاتھوں کو مضبوط کریں پارٹی نے بلوچ وطن کیلئے اتنی قربانیاں دی ہیں جمہوری جدوجہد کرنے کی پارٹی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے پارٹی اکابرین حبیب جالب بلوچ ، نور الدین مینگل سمیت دیگر کو اس لئے شہید کیا گیا کہ ان کا قصور یہ تھا انہوں نے اصولی موقف اپنا کر جدوجہد کی اسی لئے انتخابات میں بھی پارٹی کو دیوار سے لگایا گیا ہم نے چادر و چار دیواری کے تقد س ، بقاء ، سلامتی سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے ۔