|

وقتِ اشاعت :   April 25 – 2016

کوئٹہ: سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے گذشتہ روز کوئٹہ کے ایک مقامی اخبار میں ایک معروف نیوز ایجنسی کے توسط سے اپنے دور حکومت میں 40ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف کے حوالے سے شائع کردہ خبر کو بے بنیاد، لغو اور من گھڑت قراردیا ہے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صوبائی محکمہ منصوبہ بندی وترقیات اور محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان کے ریکارڈ پر ان کے دور حکومت کے تمام ترقیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے حقائق واعدادوشمار موجود ہیں اور ان اعدادوشمار سے یہ واضح ہوگا کہ اپنے دور حکومت میں اپنے حلقہ انتخاب کے لئے پی ایس ڈی پی میں منظور شدہ اسکیموں کے لئے مختص فنڈز سے ایک روپیہ بھی زیادہ جاری نہیں ہوا۔ آج بھی خرچ کی گئی رقم اور کام کے معیار کا جائزہ کسی بھی تیسری پارٹی کے ذریعے لیا جاسکتاہے۔ جہاں تک وزیراعلیٰ کے خصوصی ترقیاتی اقدامات کے لئے 1500ملین روپے کے فنڈ کا تعلق ہے تو بحیثیت وزیراعلیٰ انہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں اپنے دوروں کے دوران ضروری اور ناگزیز ترقیاتی اسکیموں کے لئے اس رقم میں سے فنڈز جاری کئے اور اس مد میں بھی فنڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے چند ترقیاتی اسکیموں کے لئے 57ملین روپے جاری نہ ہوسکے جس کی وجہ سے یہ اسکیمیں اب بھی التواء میں ہیں۔ اس مد کے تحت اسکیموں پر ہونے والے کام اور اخراجات کا جائزہ کسی بھی وقت موقع پر کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں پی ایس ڈی پی سے ہٹ کر کوئی اسکیم نہ تو منظور ہوئی اور نہ ہی ایسی کسی اسکیم کے لئے فنڈز جاری ہوئے۔ تاہم بلوچستان ریذیڈینشل کالج تربت میں رہائشی ہاسٹل کی توسیع اور تعمیر کے لئے پی ایس ڈی پی میں مختص فنڈز کو Revise کرکے مزید آٹھ ملین روپے دیئے گئے۔ جو نہایت ضروری تھا، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی منصوبوں کے حوالے سے کہا کہ ان کے دور حکومت میں وفاقی حکومت کو 15ارب روپے کی لاگت سے مختلف اہم ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کی گئی لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود یہ رقم صوبائی حکومت کو جاری نہ کی گئی۔ لہٰذا نہ ملنے والے فنڈز کے ضائع ہونے یا Lapseہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وفاقی حکومت کے 102ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد وفاقی حکومت کے اپنے ہی اداروں کے ذریعے ہورہا ہے جس پر کام کی رفتار اور اب تک ہونے والے اخراجات کی تفصیل اور دیگر ضروری وضاحت کی تفصیل یہی ادارے بہتر طور پر دے سکتے ہیں تاہم وفاقی حکومت کے 38ترقیاتی منصوبوں پر صوبائی حکومت کے ذریعے کام کیا گیا اور ان کے دور حکومت میں ان منصوبوں پر 90%کام مکمل کرایا جاچکاتھا اور اب یہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ 24ارب 50کروڑ کے صوبائی بجٹ سے بروقت صرف چھ ارب روپے واپس کئے گئے اس طرح یہ رقم محفوظ ہو کر صوبائی خزانے میں جمع ہوئی جبکہ ترقیاتی اسکیموں پر 38کروڑ روپے بروقت خرچ نہ کرنے کے حوالے سے متعلقہ افسران کے خلاف کاروائی ہوئی، جہاں تک متعلقہ تعمیراتی ٹھیکیداروں کے چیکس باؤنس ہونے کا تعلق ہے تو اسکی مکمل ذمہ داری متعلقہ آفیسر ، تعمیراتی کمپنی اور ٹھیکیداروں پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ایسی کمپنیوں اور ٹھیکیداروں نے اپنے چیکس مقررہ معیاد کے بعد اپنے اکاؤنٹس میں جمع کرائے اور صوبائی محکمہ خزانہ کے احکامات کے تحت متعلقہ بینکوں نے رقم موجود ہونے کے باوجود ایسے چیکس واپس کردئیے تاہم مروجہ قانونی طریقہ کار کے مطابق بعدمیں ایسے تمام واپس کئے گئے چیکس کی ادائیگیاں ان اسکیموں کے لیے پہلے سے مختص فنڈز سے پی اینڈ ڈی اور خزانہ سے دوبارہ تصدیق کے بعد ہی شروع کر دی گئیں تھیں محکمہ پاک پی ڈبلیو ڈی کا محکمہ وفاقی محکمہ ہے کے زریعے کوئی صوبائی فنڈز حکومت بلوچستان نے ترقیاتی اسکیموں پر خرچ نہیں کیا لہذا یہ بات نہ صرف غلط ہے بلکہ مذکورہ صحافی کے کم مائیگی اور کم معلومات کا غماز ہے سابق وزیراعلی نے کہا کہ بلوچستان میں غیر ملکی امدا دسے شروع کئے گئے کئی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت معیاری تکمیل ہوئی جبکہ کچھ پر اب بھی کام جاری ہے بہتر معیار اور بروقت تکمیل کے باعث ملٹی ڈونر فنڈزکے مالیت کو 17ار ب سے بڑھا کر 96ارب روپے کر دیا گیا ہے اور یہ اضافہ غیر ملکی امداد دینے والے اداروں کے میکانزم جو انتہائی جانچ و پڑتال تسلی اور اطمینان پر مبنی ہوتا ہے کے بعد ممکن ہوا ہے جو انکے دور میں مخلوط حکومت کی کامیابی ہے اور عوام کے ساتھ مخلص ہونے کی واضح دلیل ہے۔ مزید یہ کہ ان کے دورحکومت میں پانی کے شعبے کے لئے مختلف بڑے منصوبوں کے لئے جو تجاویز دی گئی تھیں ان کے لئے عالمی بینک نے 40ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ اور یہ بھی موجودہ مخلوط حکومت کی کامیابی کا ثبوت ہے کیونکہ یہ عالمی ادارہ صرف بامقصد اور اجتماعی نوعیت کے عوامی منصوبوں کو ہی پذیرائی دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک 22کروڑ روپے کسی بھی ٹھیکیدار کو اضافی طور دیئے جانے کا تعلق ہے تو محکمہ پی اینڈ ڈی کا ریکارڈ موجود ہے جس کے مطابق منظور شدہ لاگت سے ایک روپیہ کی بھی کسی ٹھیکیدار کو اضافی ادائیگی نہیں ہوئی۔ علاوہ ازیں 472ملین روپے کی لاگت سے منصوبوں پر آنے والے اخراجات میں کرپشن کا تعلق ہے تو مذکورہ خبر میں ایسے کسی انفرادی اسکیم یا منصوبے کا حوالہ نہیں دیا گیا جس کا واضح جواب دیا جاسکے۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اب بھی مخلوط حکومت کا حصہ ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک نہ تو صوبائی محکمہ منصوبہ بندی وترقیات اور نہ ہی صوبائی محکمہ خزانہ کو ترقیاتی سرگرمیوں اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے کوئی وارننگ دی گئی ہو تاہم اگر اس ضمن میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو محتاط رہنے کے لئے خط لکھے تو اس پر موجودہ مخلوط صوبائی حکومت کو کوئی اعتراض نہ ہوگااور اس سلسلے میں موجودہ مخلوط حکومت ان کے پچھلے دور حکومت میں ترقیاتی کاموں اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کے بارے میں ہر طرح سے مطلوبہ تفصیلات اور وضاحت دینے کی پابند ہے۔ خبر کے مطابق صوبائی محکموں کے افسران 84کروڑ روپے ہضم کرگئے اس کی باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیئے جس کے بعد اس کے غلط یا صحیح ہونے کا اندازہ ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ان کے دور حکومت میں وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم، محکمہ انٹی کرپشن اور صوبائی محکمہ منصوبہ بندی وترقیات کی مانیٹرنگ سسٹم کو عملی طور پر مؤثر اور متحرک کیا گیا تھا، اور یہ تینوں ادارے جاری اور مکمل متعدد ترقیاتی منصوبوں اور اسکیموں کا موقع پر جاکر خود معائنہ کرتے تھے اور غیرمعیاری کام میں ملوث آفیسران کے خلاف تادیبی کاروائی کا آغاز کیا گیا۔ ان اداروں کی انسپکشن رپورٹس اب بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں اور اب بحیثیت سابق وزیراعلیٰ اور ایک ذمہ دار سیاستدان کے ان کی یہ خواہش ہوگی کہ ان کے دور کی تمام ترقیاتی اسکیموں کے معیار اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کی عدالت عالیہ بلوچستان یا نیب کے ذریعے باقاعدہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مذکورہ خبر کو حقائق کے منافی اور بے بنیاد قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ خبر ان کی سیاسی ساکھ اور نیشنل پارٹی کی مقبولیت کو خراب کرنے کی بھونڈی سازش ہے لیکن ہم ایسی سازشوں سے گھبرانے یا مرعوب ہونے والے نہیں ہیں۔ گذشتہ اڑھائی سال بحیثیت وزیراعلیٰ ان کی کارکردگی روز روشن کی طرح عیاں ہے جسے بے معنی اور بے بنیاد الزامات کے ذریعہ جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ انہیں امید ہے کہ آئندہ ذرائع ابلاغ اور صحافی حضرات صحافتی اقدار اور اعلیٰ صحافتی روایات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کردار کشی اور دل آزاری پر مبنی خبروں کی اشاعت سے گریز کریں گے۔