|

وقتِ اشاعت :   May 8 – 2016

کوئٹ:  پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے پریس ریلیز میں گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں کی جانب سے پشتونخوامیپ پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد اور لغو قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کی تاریخی جدوجہد وکردار غیور پشتون ملت ، پشتونخوا وطن کے تمام عوام اور ملک بھر کے جمہوری قوتوں پر روز روشن کی طرح عیاں ہے پشتونخوامیپ نے ملک کے اندر جمہوریت ،قومی حقوق کے حصول ، سماجی عدل وانصاف ، برابری کیلئے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے اور ملک کے ہر جابر ،آمرانہ حکومتوں ، فوجی جرنیلوں کیخلاف سیساپلائی دیوار بن کر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور پارٹی نے اس راہ میں قربانیوں کی طویل تاریخ رقم کی ہے ۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور دیگر پارٹی رہنماؤں وکارکنوں نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کرکے ہر وقت اصولی موقف وکردار کو اپنایا ہے ۔اور سب سے بڑھ کر پارٹی کے چےئرمین اور دیگر رہنماؤں نے اسمبلی کے باہر اور اندر ہر فورم پرپشتون قومی مفادات کی بھرپور ترجمانی کی ہے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں یوم دستور کے موقع پر پارٹی کے محبوب چےئرمین محمود خان اچکزئی نے جوخطاب کیا وہ ہماری پارٹی کی پالیسی کا مظہرہے جس میں انہوں نے پشتون بلوچ سندھی سرائیکی اقوام کو پنجاب کی کالونی قرار دیا جبکہ مذکورہ پارٹی کی پالیسی وتاریخ پشتون افغان دشمنی پر مبنی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعیت کے وزراء کے کرپشن وکمیشن کے کارنامے آج بھی باشعور عوام کے دل ودماغ میں تر وتازہ ہے سب جانتے ہیں کہ آج بھی بہت سی فج سکیمات کاغذوں کی حد تک وجود رکھتی ہے جن پر کوئی کام کےئے بغیر کروڑوں روپے لوٹ لےئے گئے ۔ اور یہ بھی ہمارے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کل کے کنگال جب ایوان اقتدار میں پہنچے تو وہ کروڑوں اربوں روپے کے بینک بیلنس کے مالک بن گئے اور ان کی جائیدادیں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی موجود ہیں۔ جہاں تک پارٹی کی پنجاب کی استعماری پالیسیوں کا تعلق ہے تو پارٹی آج بھی ببانگ دل نہ صرف جلسوں میں بلکہ اسمبلی کے ایوانوں میں کھل کر ملک کے اندر قومیتوں کے حقوق ، ایک قوم کی بالادستی ، فوجی آمرانہ قوتوں کیخلاف آواز اٹھا رہی ہے اور پارٹی صرف اور صرف ایک ہی نقطہ پر اپنی پالیسی مرکوز رکھتی ہے کہ جو قوتیں جمہوریت کی حامی ہے ان کے طرف دار رہی ہے اور آئندہ بھی پارٹی جمہوریت اور انسانی حقوق ، سماجی عدل وانصاف کے پیروکاروں کے ہم رکاب رہیگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام اور پارٹی کارکن کبھی بھی پشتونخوامیپ سے مایوس نہیں اور نہ ہونگے کیونکہ گزشتہ تین سالوں میں جو ترقیاتی کام صاف وشفاف انداز میں پائے تکمیل تک پہنچ رہے ہیں وہ سب کچھ ہمارے عوام کے سامنے عیاں اور گراونڈ پر موجود ہے ۔ جہاں تک امن وامان کی بات ہے تو ماضی کی نسبت آج صورتحال حد درجہ بہتر ہے جس کے گواہ خود ہی صوبے کے عوام اور ہمارے غیور پشتون ملت ہے ۔ حالانکہ ماضی میں جب جمعیت کی حکومت تھی اس وقت امن وامان کی صورتحال کو عوام نہیں بھولیں اس وقت آئے روز اغواء برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ، ہفتہ بھر 100سے زائد لاشیں سڑکوں پر احتجاجاً پڑی رہتی جمعیت کے کسی وزیر نے یہ زحمت نہیں کی کہ وہ ان شہدا کے پاس جاتے یا پھر بعد میں ان سے تعزیت یافاتحہ خوانی کرلیتے ۔ جب کوئٹہ سے روزانہ کی بنیاد پر درجن بھر لوگ اغواء ہوتے تھے ۔ ہمارے عوام کو وہ دن بھی یاد ہے جب کوئٹہ چمن شاہراہ پر دن کے وقت بھی سفر کرنا محال تھا ۔ اور ہمارے عوام کے ذہنوں میں وہ دن بھی نقش ہے کہ جب کوئٹہ میں روزانہ لاچار ، غریب اور بے گناہ عوام کی ٹارگٹ کلنگ ہوتی تھی اور ہمارے عوام کے سامنے آج کی صورتحال بھی سامنے ہیں جب لوگ رات گئے تک سڑکوں پر اپنی معاشی ومعاشرتی زندگی بڑے امن وامان کی صورتحال میں گزار رہے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں تک جمعیت کا پشتونخوامیپ جیسی اصول پسند پارٹی پر بیجا تنقید اور اقرباء پروری کا الزام لگانے کا تعلق ہے تو کیا ان کے پارٹی کے سربراہ کے کتنے بھائی اسمبلی میں موجود ہیں یا تھے جبکہ پارٹی نے پشتون بلوچ صوبے میں دونوں برادار اقوام کی برابری کو زندگی کے تمام شعبوں میں لاگو کرتے ہوئے پہلے قدم کے طور پر صوبے کو ایک ایماندار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گورنر کی صورت میں نامزدگی اور صوبے کے گورنر کی تعریف اب مخالفین سمیت ہر شخص کے زبان پر ہیں ۔ اسی طرح پارٹی نے سکولوں میں مادری زبانوں پشتو ، بلوچی سمیت تمام قومی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے کا قانون پاس کیا اور پارٹی نے سود (پیمنٹ ) کیخلاف قانون پاس کرکے جمعیت کی اسلام کے مقدس نام پر ووٹ لینے کا پول کھول دیا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے عوام کو بخوبی علم ہے کہ کس کی وجہ سے پشتونوں کے شناختی کارڈز بلاک ہے ۔ 1993میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو خود جمعیت کے ایک اعلیٰ عہدیدار جو کہ آج ایک اہم سرکاری عہدے پر فائض ہے دیگر پشتون دشمن پارٹیوں کے ساتھ ملکر اس وقت کی وفاقی حکومت کو پشتونوں کے شناختی کارڈز پر پابندی لگانے کی سفارش کی اور آج اسی پالیسی کے نتیجے میں پشتونوں کے ایک لاکھ سے زائد شناختی کارڈ بلاک ہے اور ہمارے عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ آج وفاقی کابینہ میں جمعیت کے اکرم درانی جو کہ وفاقی وزیر ہے اور سینیٹ کے ڈپٹی چےئرمین ان کے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہے ۔ لہٰذا نادار وفاقی حکومت کا ادارہ ہے اور وفاقی حکومت دوسروں معنوں میں جمعیت ہی پشتونوں کی شناختی کارڈ بلاک کرنے میں برابر کی شریک ہے ۔ جبکہ دوسری جانب مگر مچھ کے آنسوں بہا کر ہمارے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ غیور پشتون ملت کی ملی وحدت ، وا ک واختیار اور ملک کے اندر قوموں کی بنیاد پر قومی وحدتوں کے حصول کے قیام کے لئے جس طرح جدوجہد کی ہے وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے اور پشتونخوامیپ پشتونخوا وطن کی ملی وحدت ، واک واختیار اور متحدہ پشتونخو ا ، پشتونستان ، افغانیہ کے قیام سے دستبردار ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعیت کے دور حکومت میں کوئٹہ گریٹر واٹر پروجیکٹ کے تحت 10ارب روپے کی خطیر رقم سے کوئٹہ کے عوام کو پانی کی فراہمی مقصود تھی لیکن آج سب اس بات کے گواہ ہے کہ اتنی خطیر رقم کرپشن کا شکار ہوئی اور عوام بوند بوند پانی کیلئے ترستی رہی ۔ اسی طرح کوئٹہ کے سیوریج سسٹم کے نام پر اربوں روپے ضائع کرکے کوئٹہ کے سڑکوں کو کھنڈرات میں تبدیل کیا گیا جس کی انکوائری اب تک جاری ہے۔ جمعیت کے وزراء اور اراکین اسمبلی نے طلباء وطالبات کے سکالر شپ ،میڈیکل ،سپورٹس کلبوں کے فنڈز کو چھپا کر کروڑوں اربوں روپے ہڑپ کرلےئے جبکہ پشتونخوامیپ نے اپنے پہلے دو بجٹ میں کروڑوں روپے کے حساب سے کم وبیش 25ہزار طلباء وطالبات کو سکالر شپ کی مد میں صاف وشفاف طریقے سے تقسیم کےئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پشتونخوامیپ کے ممبران اسمبلی پر آج تک کوئی کرپشن کا کیس نہیں بنا ہے جبکہ مذکورہ پارٹی کے 2سابق وزراء کرپشن کے کیس میں جیل کی ہوا کھا چکے ہیں اور مزید وزراء کیخلاف تحقیقات جاری ہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کون سی جماعت کرپشن میں ملوث ہے ۔ صوبے کے عوام اس سے بھی بخوبی واقف ہے کہ گزشتہ حکومت میں ترقیاتی بجٹ کاسب سے زیادہ حصہ روڈ سیکٹر پر خرچ ہوتا تھااور ہر ضلع وعلاقے میں جمعیت کا عہدیدار ٹھیکیدار بنا پھرتا تھا ۔جبکہ موجودہ حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اپنے بجٹ کا 24فیصد حصہ تعلیم اورخطیررقم صحت کیلئے مختص کیا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ افسو س سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ مذکورہ جماعت پشتونخوامیپ جیسی نظریاتی پارٹی پر ا ن کے کارکنوں کی مایوسی کا واویلا کررہی ہے جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ کرپشن اور اقرباء پرویری کی وجہ سے آج جمعیت خود کتنے دھڑوں اور گروپوں میں منقسم ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اقتدار کو لات مارنے کا دعوی کرنیوالے اقتدار حاصل کرنے کیلئے آج بھی مر مٹنے کیلئے تیار ہے کیونکہ جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح مذکورہ پارٹی بھی اقتدار کے بغیر نہیں رہ سکتی اسی لےئے تو بے سر وپا، من گھڑت اور لغو بیانات اور تقاریر کے ذریعے باشعور عوام کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 2018کے انتخابات میں پشتونخوامیپ اپنے اصولی موقف ، برحق سیاست ،اپنے عوام کی خدمت اور عوام کے سرومال کے تحفظ کو یقینی بنانے اور دیگر اہم فلاح وبہبود کے منصوبوں کی تکمیل کی بنیاد پر حصہ لے گی اورعوام کی عدالت میں سرخرو ہوگی۔