اسلام آباد : رُکن قومی اسمبلی اور پختونخواہ ملّی عوامی پارٹی کے چئیرمین محمود خان اچکزئی نے سینٹر عثمان خان کاکڑ اور سینٹر سردار اعظم موسٰی خیل کے ہمراہ پیر کے روز ایچ ای سی سیکرٹریٹ کا دورہ کیا اور ایچ ای سی کے چئیرمین ڈاکٹر مختار احمد سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان میں موجود جامعات سے متعلق امورپر گفتگو ہوئی۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے بلوچستان کے طلباء کے لئے محدود وظائف اور دیگر اعلٰی تعلیمی سہولیات سے متعلق تحفظات پرچئیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے ارکانِ پارلیمنٹ کو صوبے میں اعلٰی تعلیم کے فروغ کے لئے ایچ ای سی کے اقدامات بشمول وظائف کی فراہمی، فیکلٹی ممبران ، طلباء اور محققین کے لئے تحقیق کے مواقع اور سہولیات کی دستیابی، اور ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ سے اگاہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اعلٰی تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانے اور تعلیم کو دور دراز اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں عام کرنے کے لئے منصوبہ بنا رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کئی جامعات نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں اپنے سب کیمپس قائم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے جیسے یونیورسٹی آف بلوچستان، لسبیلہ یونیورسٹی ، سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی ، اور ورچوئل یونیورسٹی بالترتیب پشین اورڈیرہ مراد جمالی ، خذدار، نوشکی، اور ڈیرہ بگٹی، ہرنائی، جھل مگسی اور زیارت میں اپنے سب کیمپس قائم کریں گی۔ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ بلوچستان میں فیکلٹی ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت کُل 375 سلاٹ ہیں جن میں سے 188وظائف دیے جا چکے ہیں اور 63اسکالرز نے اپنی تعلیم مکمل کر لی ہے۔ ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کے اقدام کے تحت 1256وظائف دیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 2494وظائف کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔ اسی طرح سال ۔2012سے اب تک بلوچستان کے طلباء کو 2515نیڈ بیسڈ اسکالرشپ فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم فیس واپسی اسکیم سے سال۔2012سے سال ۔2016تک 30,585طلباء سے استفادہ حاصل کیا جبکہ وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت صوبے کے 4195طلباء نے لیپ ٹاپ حاصل کیے۔ جناب محمود خان اچکزئی نے پچھلے دس سال میں اعلٰی تعلیم کے فروغ کے لئے ایچ ای سی کے اقدامات کو سراہا اور ایچ ای سی کی جانب سے ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے قیام کی بھی تعریف کی جو کہ جامعات میں داخلے کے لئے مفت ٹیسٹ منعقد کرنے کا ذمہ دار ہو گا۔