اسلام آباد: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ گزشتہ 35 برس عملی سیاست سے وابستہ ہوں۔
اور بلوچستان کی گیارہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے چانسلر کی حیثیت میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ حقیقی لیڈر وہ ہے جو لیڈرز پیدا کرتا ہے مگر پیروکار نہیں۔
وہ رہنمائی کرتا ہے اور ایک عظیم مقصد کے حصول کیلئے عوام کی حمایت سے وژن کو حقیقت میں بدل دیتا ہے۔
ہم مثالی قیادت اور بہترین مینجمنٹ کی طاقت کو بروئے کار لا کر مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
جدت کاری پر مبنی خیالات پیدا کر سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے زیرِ اہتمام فلیم 2025 کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس کانفرنس میں پاکستان کی پچاسی مختلف پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، ورلڈ بینک کے نمائندے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی قیادت اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز سمیت خواتین و حضرات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ایک اہم تشویش کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت بیس ہزار سے زائد پی ایچ ڈی سکالرز ہیں۔
جنہوں نے دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے اپنی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔
حکومت نے ان کی تعلیم و ترقی پر اربوں روپے خرچ کیے ہیں۔
تاہم اس بڑی تعداد اور قابل قدر سرمایہ کاری کے باوجود ہمارا تعلیمی نظام پھر بھی زوال پذیر ہے جو سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
لہذا آپ سب کی ذمہ داری ہے کہ نظام تعلیم اور نصاب تعلیم میں بہتری لانے کیلئے اپنی قائدانہ صلاحیت اور انتظامی مہارت کو بروئے کار لائیں۔
اور تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
ملکی سطح پر ایک کامیاب کانفرنس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے گورنر مندوخیل نے کہا کہ اس شاندار کانفرنس کے تعمیری نتائج برآمد ہونگے۔
اور یہ پورے ملک کی یونیورسٹیوں کے درمیان روابط بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔
کانفرنس کے عنوان “لیڈرشپ اینڈ مینجمنٹ ایکسیلینس” پر روشنی ڈالتے ہوئے گورنر جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ قیادت واقعی ایک بہت ہی پیچیدہ اور گنجلک موضوع ہے۔
کیا لیڈر کی تعریف ایکشن یا پوزیشن سے ہوتی ہے؟
کیا لیڈر ڈگری ہولڈر یا نالج ہولڈر ہونا چاہیے؟
لیڈر کیلئے کیا چیز زیادہ اہم ہے، تدریسی صلاحیت یا انتظامی اہلیت؟
ان نئے سوالات کو اٹھانے، مباحث میں تنوع لیکن عمل میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام طور پر لوگوں کا اس پر اتفاق ہوتا ہے کہ قیادت لوگوں کو عمل کرنے، جرأت دینے اور ٹیم ورک کو فروغ دینے کیلئے متاثر کرنے اور ہدایت کرنے کا فن ہے۔
گویا قیادت دوسروں کو مشترکہ مقاصد کے حصول کی طرف ترغیب دینے کا نام ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے ہمارے تمام نامور سکالرز، ریسرچرز اور متعلقہ حکام پاکستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کیلئے ایک جامع حکمت عملی تیار کریں۔
اس سلسلے میں انٹرنیشنل اداروں کی بروقت مدد اور رہنمائی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی کاوشوں کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کا اشتراک صوبوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے ساتھ ساتھ ہماری قومی سالمیت اور یکجہتی کو بھی مضبوط کریگا۔
آخر میں گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے ایچ ای سی کے چیئرمین کو ایک کامیاب کانفرنس کے انعقاد اور پاکستان بھر کے وائس چانسلرز کو مجتمع کرنے اور اس موقع پر اپنی شرکت پر خاص طور شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن کی ٹیم اور ایم ڈی کی لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کو بھی سراہا۔
پاکستان میں 20 ہزار سے زائد پی ایچ ڈی ہولڈرز ہو نے کے با وجوتعلیمی نظام زوال پذیر ہے ،گورنر بلوچستان
![]()
وقتِ اشاعت : June 19 – 2025