|

وقتِ اشاعت :   June 19 – 2025

کوئٹہ: جمعیت علما اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا ہے کہ ہماری زندگیاں خطرات سے لاحق ہیں، قومی شاہراہوں پر اتنے لوگ آکر شہریوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، اور ہمارا جرم صرف یہ ہے کہ ہم پاکستان اور قومی یکجہتی کی بات کرتے ہیں۔

بجٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست کی کوئی گنجائش نہیں، ہمارے لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، اور میں پوچھتا ہوں کہ ہم اپنے شہداء کا خون کس کے دامن پر تلاش کریں؟

مولانا عبد الغفور حیدری نے 10 جون کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے سب سے چھوٹے بیٹے اسجد محمود جب ڈیرہ اسماعیل خان سے لکی مروت کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں 40 سے 50 نامعلوم مسلح افراد نے ان کا گھیراؤ کیا۔

ان کے ساتھ موجود رضاکاروں نے مزاحمت کی، انہوں نے کہا ہم تو لڑیں گے، ہتھیار نہیں چھوڑیں گے۔
مسلح گروہ کے پاس راکٹ لانچر جیسے بھاری ہتھیار بھی موجود تھے، یہ افسوسناک اور ریاستی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک میں اتنی بڑی تعداد میں مسلح لوگ قومی شاہراہ پر کس طرح دندناتے پھرتے ہیں؟
مولانا فضل الرحمان پر تین مرتبہ خودکش حملے ہو چکے ہیں، اور اب ان کے بیٹے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، لیکن حکومتی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

مولانا حیدری نے کہا کہ اگر حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی تو پھر حکومت کس درد کی دوا ہے؟
ریاست کو اپنی ذمہ داری کا ادراک کرنا ہوگا، اور شہریوں کو تحفظ دینا اس کا آئینی و اخلاقی فریضہ ہے۔