مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے سے جاری کشیدگی اب ایک کھلی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس دوران دونوں جانب شدید بمباری، میزائل حملے اور ڈرون کارروائیاں دیکھی گئی ہیں، جن میں اب تک سیکڑوں افراد جاںبحق اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں پناہ گزین نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
جنگ بندی کی کوششیں اور اسرائیلی ہٹ دھرمی
عالمی برادری، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور کئی غیر جانبدار ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، مگر اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسی اور سیاسی ضد پر ڈٹا ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے دفاعی مزاحمت کے باوجود، اسرائیلی بمباری میں کوئی کمی نہیں آئی۔
پاکستان و چین کی اخلاقی حمایت، روس کی خاموش تائید
پاکستان نے ایران کے مؤقف کی اخلاقی حمایت کا دو ٹوک اعلان کیا ہے، جبکہ چین نے بھی ایران کے حق میں واضح سفارتی بیان جاری کیا ہے۔ روس اور بعض دیگر ممالک اگرچہ کھل کر میدان میں نہیں اترے، تاہم ان کی خاموش حمایت اور پس پردہ تائید محسوس کی جا رہی ہے، جس سے عالمی صف بندیوں میں واضح تبدیلی آ رہی ہے۔
خطے میں عدم استحکام کا اندیشہ
جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ایران کے اتحادی گروہ، مثلاً حزب اللہ (لبنان)، حوثی (یمن)، اور شیعہ ملیشیائیں (عراق و شام)، ممکنہ طور پر اسرائیل کے خلاف فعال ہو سکتے ہیں، جو خطے میں فرقہ واریت اور شدت پسندی کی نئی لہر کو جنم دے گا۔
انسانی بحران کی ابتدائی جھلکیاں
اگرچہ جنگ ابھی مکمل انسانی المیے میں نہیں بدلی، لیکن اس کے آثار نمایاں ہیں۔ سیکڑوں افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات آ چکی ہیں، اور متعدد افراد پناہ کے لیے دوسرے علاقوں کی طرف جا چکے ہیں۔ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو یہ صورتحال جلد ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
توانائی بحران اور عالمی منڈی پر اثرات
ایران کی جغرافیائی اہمیت آبنائے ہرمز کی وجہ سے ناقابلِ تردید ہے، جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر ایران اس آبی گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو عالمی توانائی کی ترسیل بری طرح متاثر ہو گی۔ تیل کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ رہی ہیں اور عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہو چکا ہے۔
تجارتی بحری راستوں پر خطرات
خلیج فارس، بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب کے بحری راستے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ جہازوں پر حملے، انشورنس اخراجات میں اضافہ اور کمرشل بحری آمد و رفت میں کمی جیسے خطرات بڑھ چکے ہیں، جن سے عالمی سپلائی چین کو جھٹکا لگ رہا ہے۔
مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی
سرمایہ کار غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ اسٹاک مارکیٹس غیر مستحکم ہو چکی ہیں، اور سونا، تیل اور دیگر محفوظ سرمایہ کاری کی طرف تیزی سے رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے مالیاتی نظام میں دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔
ایران اور اسرائیل کی حالیہ جنگ محض دو ریاستوں کا تنازعہ نہیں بلکہ عالمی امن، توانائی کی ترسیل، معاشی استحکام اور انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ، اسلامی دنیا، اور بڑی عالمی طاقتوں کو فوری سفارتی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ایک مہلک جنگ کو روکا جا سکے۔ بصورتِ دیگر، دنیا ایک طویل اور تباہ کن دور میں داخل ہو سکتی ہے۔