بی ایس او کے سابق چیئرمین محترم واحد رحیم نے اپنے فیس بک بلاگ میں’’ آدرش ‘‘ کے عنوان سے جو بیانیہ قلم بند کیا ہے وہ کوئی نیا نہیں بلکہ وہی بیانیہ ہے جو پاکستانی کمیونسٹ کم لبرلز کا رہا ہے گوکہ بلاگ کی زبان اور روانی خوبصورت ہے لیکن خیالات اور حقائق میں ربط موجود نہیں ہے۔
بلاگ کا خلاصہ یہ ہے کہ “دنیا بدل رہی ہے اور طاقت مغرب سے مشرق کی جانب شفٹ ہو رہی ہے، مگر چونکہ فی الحال عالمی بیانیے پر مغرب کا غلبہ ہے اس لیے عام آدمی یا عام سیاسی ورکروں کو(صرف) ظاہری طور پر محسوس ہورہا ہے کہ غالب ڈسکورس مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے جبکہ بقول نام نہاد پاکستانی کمیونسٹ اور لبرلز کے معاملہ اسکے بر عکس ہے۔
یعنی آنے والے دنوں میںطاقت کا ہما مغرب سے اڑ کر چین،روس،ترکی اور ایران کے سر آ بیٹھ جائیگا (اس میں بین السطور پاکستان بھی شامل ہے مگر پاکستانی لبرلز نما کمیونسٹ اور روشن خیال اپنی منافقت میں یہ بات چھپا دیتے ہیں) یہ دراصل اس مہابیانیے کا ترویج کردہ مائیکرو بیانیہ ہے جس کی پرچارک میں اوریاں جان اور زید حامد جیسے پاکستانی نام نہاد دانشوروں کو اسلامی چپ پیوست کرکے لانچ کر دیا گیا ہے۔
اس بلاگ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے یہ وہی سب کچھ ہے جو جنگ،ایکسپریس ،ہم شہری،نیا زمانہ اور دیگر پاکستانی اخبارات اور جرائد میں وقتاً فوقتاً کالموں کی صورت میں چھپتا رہتا ہے۔
البتہ اس میں نوم چومسکی،نیلسن منڈیلا جیسے لوگوں کے اقوال شیرنی کے لئے شامل کیے گئے ہیں۔
اس بیانیے کے فروغ میں زید حامد،اوریاں جان ،بلوچستان وائس جیسے ادارے کے نام نہاد تھنک ٹینک اور براق جیسے چینل پیش پیش ہیں۔
اس تناظرمیں مغرب سے طاقت کے پیراڈائم شفٹنگ (Shift Paradiam )میں کتنی صداقت ہے یہ الگ بات ہے لیکن پاکستان میں اس بیانیہ کے فروغ میں زمینی حقائق سے زیادہ غزوہ ہند اور چین کو دنیا کا سرکماش بنانے کی خواہش زیادہ پنہاں ہے۔جیسے اس بلاگ میں کہا گیا ہے:
’’لیکن اب منظر نامہ بدل رہا ہے طاقت کے مرکز مغرب سے مشرق کی طرف کھسک رہے ہیں،امریکہ کی عسکری ونظریاتی برتری کو چین، روس،ترکی اور ایران جیسے ممالک چیلنج کررہے ہیں۔‘‘ بظاہر یہ ایک مسرور اور متاثر کن جملہ ہے کہ دنیا میں امریکہ کی تھانہ داری عنقریب ختم ہونے والی ہے اور طاقت کاسرچشمہ شفٹ ہورہا ہے۔اس جملے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ چین کی معاشی ترقی کے بعد روس،چین ایران اورترکی امریکہ یا مغرب کو چیلنج کرنے لگے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ روس دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ کے مدمقابل کھڑا ہوگیا تھا جبکہ چین کی جو معاشی ترقی ہے،
سرد جنگ کے دوران مغرب نے خود اْسے روس کے مدمقابل لاکھڑا کرنے کیلئے اْس کی معاشی مددمعاونت کی تھی۔ اسکے برعکس صنعتی انقلاب کے بعد چین اور روس کبھی ایران اور ترکی کی طرح کمزور مملکتیں رہیں ہی نہیں۔امریکہ کی طا قت پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ابھر کر سامنے آئی۔1945 میں جب اقوام متحدہ کا قیام عمل میں آیا تو چین اور روس امریکہ کی طرح دنیا کی پانچ طاقت ور ترین مملکت میں سرفہرست تھے۔
ایران رضا شاہ پہلوی کی قیادت میں برطانوی کالونی کے دائرے میں مغرب کے اثرورسوخ میں تھا جبکہ ترکی اس وقت یورپ کا مرد بیمار تھا۔
جس کا علاج اب تک دریافت نہیں کیاجاسکاجہاں تک ایران اور ترکی کے امریکہ کو چیلنج کرنے کی بات ہے تو امریکہ نے وقت کے ساتھ وہ تمام ریاستیں سلطنت عثمانیہ سے نہ صرف الگ کردیئے بلکہ اسرائیل کے قیام کے بعد اْن سب کو ترکی کے ناک کے نیچے تہس نہس کردیا۔پہلی جنگ عظیم سے پہلے ترکی( کے وہ حصے جو ترکی کو ایک عظیم سلطنت بناتے تھے) کو اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ملکر اپنے جدید نوآبادیات بنا دیئے اور انہی ریاستوں کے ذریعے وہ آج ترکی اور ایران کے بارڈر تک پہنچ چکا ہے اور جو ترکی اپنی دفاع کے لئے نیٹو کا مستقل ممبر بنا بیٹھا ہے
کیا اْس سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ چین، پاکستان اور ایران کے واسطے مغرب کے مقابل صف میں آکھڑا ہوجائے گا؟؟ ماضی میں ترکی نے ایک دو ایسی حرکتیں کیں تھیں جس کی وجہ سے مغرب نے انہیں یورپی یونین کی ممبر شپ تک نہیں دی۔اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ مغرب یورپ کے مرد بیمار کو کتنی وقعت دیتا ہے؟چیئرمین صاحب جس ڈاکٹرائن کی بات کررہے ہیں
وہ ریگن سے بہت پہلے امریکہ کا تھا جبکہ ٹرمپ ڈاکٹرائن کا اصل محور ابراہیم اکارڈ (معاہدہ) تھا جس میں انہوں نے ایران اور ترکی کو شامل ہی نہیں کیا کیونکہ فارسی اور ترک نہ تو ہاجرہ کے نسل سے ہیں اور نہ سارہ کے اس لحاظ سے اس بیانیہ میں وہ وقعت ہی نہیں رہتی کہ لوگ تسلیم کریں کہ واقعی ایران اور ترکی امریکہ اور اسرائیل کو چیلنج کرسکتے ہیں۔آگے انہوں نے نوم چومسکی کا اہم قول پیش کیا ہے کہ’’ اصل طاقت بندوق میں نہیں بلکہ ان بیانوں میں ہوتی ہے جو ذہنوں پر قابض ہوکر نظام ظلم کو قبول کروادیتے ہیں‘‘اس پریہ سوال اٹھتا ہے کہ ایران، ترکی اور پاکستان جیسے ممالک میں ان بیانوں کو (جو اذہان کے اندر نظام ظلم کو قبول کروانے میں کردار ادا کرتے ہیں) کون تقویت دیتا ہے؟ وہ کون لوگ ہیں یا سیاسی پارٹیاں ہیں جو ان ریاستوں میں ذہنوں کو غلامی کی قبولیت کے لئے مجبور کراتے ہیں؟ وہ کونسی پارٹیاں اور قبائلی اور سماجی معتبرین ہیں جو اپنے ہی قوم کے لوگوں کی غلامی کو دوام بخشنے کے لئے ریاستی بیانوں کو پروان چڑھاتے ہیں؟اور بے بنیاد بیانیے گھڑتے ہیں؟
آگے چل کر چیئرمین صاحب بات کو کیموفلاج کرکے کہتے ہیں’’ٹرمپ ڈاکٹرائن جو دراصل ریگن کی پالیسی کا نیا روپ تھی دنیا پہ دھونس،دبائو اور یک طرفہ حکمران مسلط کرنے کی کوشش تھی۔ جو آج بے نقاب ہوکر اپنی وقعت کھورہی ہے‘‘۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں صرف ٹرمپ اور ریگن نے ہی دنیا پر جماداری قائم رکھنے کے لئے دھونس ،دبائو کا سہارا لیاہے؟ اگر دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں! دنیا میں ہر طاقت نے اپنے وجود کے لئے دھونس اور دھمکی کا سہارا لیا ہے حالانکہ تربت اور نال کا ایک عام ٹکری اور میر بھی اپنے حلقے میں اپنی طاقت کی بقا کے لئے دھونس ودھمکی کا سہارا لیتا ہے۔
سلطنت عثمانیہ کے دور میں ترک حکمرانوں کا بھی یہی رویہ رہا ہے،ایران کے سائرس نے بھی یہی کام کیا۔
سلطنت روم کے حکمران بھی یہی کرتے رہے۔ دیگر کو چھوڑیں مملکت خداداد خان بھی کشمیر اور افغانستان کو اپنے اندر سمیٹنے کے لئے1947 سے یہی کچھ کرتا آرہا ہے جبکہ زار روس سے لیکر گورباچوف تک سب کی حکمت عملی یہی تھی کہ دنیا میں یک طرفہ حکمرانی قائم کی جائے۔
سکندر اعظم یونان کو چھوڑ کر لسبیلہ اور نال کونسا لنگر تقسیم کرنے آئے تھے!سائرس اعظم نے کلدانیہ اور ہندوستان کے دیگر سلطنتوں کو کیوں تاراج کیا تھا؟ ہندوستان کا اشوک کیوں ہندوستان سے نکل کر ہمسایہ ممالک پہ حملہ آور ہوا؟ چنگیز خان اور ہلاکو خان نے کھوپڑیوں کے قلعے کیوں تعمیر کرائے؟
کیاصرف اس لئے نہیں کہ وہ دنیا پریکطرفہ حکمرانی چاہتے تھے؟ اسی بیان کو آگے لے جاتے ہوئے چیئرمین صاحب لکھتے ہیں۔
(مغربی طاقتیں)’’آج بے نقاب ہوکر اپنی وقعت کھورہی ہیں۔ اس کے برعکس چین کی حکمت عملی جو مصالحت،اقتصادی تعاون، دفاعی خود کفالت اور سفارتی توازن پرمبنی ہے ایک پرامن اور باوقار متبادل کے طور پر ابھری ہے‘‘۔
(حالانکہ چیئرمین صاحب سے ایسے تجزیے کی توقع نہ تھی کیونکہ یہ سراسر پاکستانی لبرلز نما کمیونسٹ اور اخباری کالم نگار اور ریڈیو ا ور ٹی وی کے تجزبہ کاروں کا مزاج ہے) اول ہم یہ کیسے تسلیم کرلیں کہ مغرب بے نقاب ہوچکا ہے؟ اگر ہاں !تو کہاں؟ اور کس صورت میں؟ اگر معاملہ جنگوں کا ہے تو پاکستان بھی افغانستان ایران اورہندوستان کے ساتھ مسلسل جنگیں لڑچکا ہے۔ترکی نے سائپرس پر قبضہ نہیں کیا؟ کرد اور دیگر اقوام کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ہے،کس کو معلوم نہیں؟ایران عراق، کویت اور سعودی عرب کے ساتھ جنگ لڑ چکا ہے۔اردن اور یمن میں اْسکی پراسکیوں نے ان ممالک کے عوام کا جینا اجیرن کردیا ہے؟ اگر امریکہ نیوورلڈ آرڈر کی تشکیل وترویج کررہا ہے تو کیا ایران اپنے برانڈ کے اسلام کو پاکستان سمیت ترکی اور عرب ممالک پر مسلط کرنے کی کوشش میں نہیں لگا ہواہے؟ چین اپنا معاشی نظام اور سیاسی مفادات کو دنیا پر مسلط کرنے کی تگ ددو میں لگاہوا نہیں ہے؟ کیا کوئی اس حقیقت سے آنکھیں چراسکتا ہے کہ اگر 1945 میں اسرائیل کا قیام نہ ہوتا تو 1979 کے انقلاب کے بعد ایران اپنے تمام ہمسایہ عرب مسلم ممالک کو اب تک تہس نہس نہ کرچکاہوتا؟
دوسری بات، چین نے مصالحت کی سیاست کا عملی مظاہرہ کہاں کیاہے؟تائیوان میں، اپنے اندر کے سنکیانگ صوبے میں؟ اور’’ اقتصادی تعاون‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ انہوں نے سری لنکا، بنگلہ دیش اور افریقہ کے ممالک کو قرضے دیکر اْن کے ساتھ کیا؟ کیا چین کااقتصادی تعاون سیندک میں دیکھا نہیں گیا ؟ جو 100 میں سے دو فیصد حکومت پاکستان کو دے رہا ہے۔دوریجی میں چین کے گولڈ اینڈ کاپر منصوبے میں وفاقِ پاکستان اور بلوچستان کو کتنا حصہ مل رہا ہے؟اس منصوبے میں چین کا رویہ وہاں کے مقامی لوگوں کے ساتھ کیا رہا ہے ؟چین نے حبکو پاور منصوبے میں وہاں کے مقامی آبادی کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ہے کس کو معلوم نہیں۔ اس لحاظ سے نہیں لگتا کہ کوئی ان تمام زمینی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے پاکستانی یوٹیوبرز اور لبرلز نما کمیونسٹ کی جعلی اور جھوٹ پر مبنی بیانیے کی ترویج کرے۔ (کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا)
سیندک کے قریب ہی ریکوڈک میں مغربی معاشی برانڈ موجود ہے، دونوں کمپنیوں کے اختیارداروں کے رویوں سے اِن ممالک کے اجتماعی سوچ کا موازنہ کیاجاسکتا ہے اگر کسی کو فرصت ہو تو وہ خود سیندک کے لوگوں سے یا حب چوکی کے لوگوں سے چینی کمپنیوں کا موازنہ ریکوڈک کے کمپنی سے جاکر کرلے اور دیکھ آئے کہ چین انسانوں کے لئے کتنی رحم دلی رکھتا ہے یا چین عالمی منظر نامے میں کیسے ایک باوقار متبادل کے طور پر ابھرا ہے اور مغرب کے نسبت چینیوں میں کتنی انسانیت موجود ہے؟
آگے چل کر چیئرمین صاحب ر قمطراز ہیں کہ’’ اس طرز عمل نے امریکہ اور اسرائیل کو بیانیہ کی جنگ میں دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کردیا ہے‘‘ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ چیئرمین صاحب نے کہاں سے اخذ کیا کہ امریکہ اوراسرائیل بیانیے کی جنگ میں دفاعی پوزیشن پر کھڑے ہیں؟اگر بات پاکستانی یوٹیوبرز اور کالم نگاروں کی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ عام قاری کے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ بیانیہ نامی شے بنتا کیسے ہے؟ اور پھیلتا کیسے ہے؟ ظاہر ہے چیئرمین صاحب کو معلوم ہے کہ موجودہ عہد معلومات اور انفارمیشن کا ہے جبکہ معلومات اور انفارمیشن’’ڈیٹا‘‘سے بنتا ہے اب ڈیٹا امریکہ اور اسرائیل لابی کے پاس ہے؟یا ایران اور ترکی کے؟ چین سے باہر کا کتنا فیصد ڈیٹا چین اور روس کے دسترس میں ہے؟ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ جس چین کو عالمی سائنسی منظر نامے بہت بڑا پیش کرتے ہیں جدید سائنسی یا ایجادات کی دنیا میں چین کا کردار جعل سازی، دھوکہ دہی اور نقل اشیا بنانے کے علاوہ رہا کیا ہے؟
آگے لکھتے ہیں ’’ اب وہی قوتیں جو پہلے رجیم چینج یا افزودگی کے نام پہ حملے کررہی تھیں، جنگ بندی اور مذاکرات کے خواہاں نظر آرہی ہیں‘‘ اول اسرائیل اور امریکہ تو شروع دن سے ایران کو مذاکرات کے لئے دعوت دے رہے تھے، اس اثنا میں ٹرمپ نے ایران کو60 دن (دومہینے)کا الٹی میٹم بھی دیا تھا۔ ایران خود نہیں مان رہا تھا۔جنگ کے بعد اسرائیل اور امریکہ برملا اظہار کررہے ہیں کہ وہ ایران میں رجیم چینج لانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔اب وہ اس میں کامیاب ہونگے یا نہیں یہ الگ بات ہے،لیکن اپنی طرف سے تاثر دینا کہ امریکہ اور اسرائیل یورنیم افزودگی اور رجیم چینج کے اپنے اہداف سے پیچھے ہٹ چکے ہیں دانشوری اور علمی اخلاص کے خلاف ہے یا اپنے قاری کو بے بنیاد دلیل سے گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔آگے لکھتے ہیں’’اور بیانیے کا پلڑا اب مغرب کے ہاتھ سے پھسلتا جارہا ہے‘‘یہ بھی پاکستانی یوٹیوبرز کی طرح ایک خواہش تو ہوسکتی ہے مگر اس بات کا زمینی حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔کیونکہ موجودہ ہندوپاک اور ایران اسرائیل جنگ میں مغرب کا بیانیہ زیادہ محکم تھا دنیا کے 207ممالک میں روس، چین اور شمالی کوریا کے علاوہ کسی بھی ملک نے ایران کی حمایت نہیں کی۔ جبکہ پاکستان بھی اندرون خانہ اسرائیل کی حمایت کرتارہا اور ہندوپاک جنگ میں خود ایران بھی بھارت کی لابی میں شامل تھا۔آخر چیئرمین صاحب کی یہ ’’بیانیے کی خونی جنگ‘‘ عالمی منظر نامے میں کہاں پہ لڑی گئی؟ جس میں ایران اور پاکستان کی جیت ہوئی جبکہ امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کی شکست! اور اس کا ادراک صرف چیئرمین صاحب اور پاکستانی یوٹیوبرز کو ہوا اور دنیا میں کسی دوسرے کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی۔چیئرمین صاحب آگے چل کر نیلسن منڈیلا کا قول پیش کرتے ہیں۔ ’’دنیاکوبدلنے کے لئے تلوار نہیں بلکہ بصیرت،اصول اور جرات درکار ہوتی ہے‘‘دنیا میں کافی ایسے قصے،باتیں اوراقوال جن لوگوں سے منسوب کی جاتی ہیں۔اکثر ان کا اْن سے سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا جیسے یہ مقولہ کہ’’ تم مجھے ایک پڑھی لکھی عورت دو،میں تمہیں پڑھی لکھی قوم فراہم کرتا ہوں‘‘ کو نپولین سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن نپولین پر ریسرچ کرنے والے برملا اعتراف کرتے ہیں کہ نپولین کے دل میں عورتوں کے بارے کوئی ایسااحساس سرے سے موجود ہی نہیں تھا اسکے ساتھ نپولین نے تاریخ میں کبھی کوئی ایسی بات کی ہی نہیں تھی۔
اسی طرح نیلسن منڈیلا کی کتاب( Freedom to walk long A) میں کوئی ایسی بات موجود نہیں ہے جبکہ وہ اسی کتاب(چیپٹر52 صفحہ،440-432) میں لکھتے ہیں:
I and my colleagues came to the conclusion that as violence in this country was inevitable, it would be unrealistic and wrong to African leaders to continues priding peace and non-violence when the government met our peaceful demands with force.
دوسری جانب نیلسن منڈیلا کوئی ایسا بڑا لیڈر تھا ہی نہیں کہ اْسکی ہر بات من وعن قبول کی جائے بلکہ نیلسن منڈیلا،گاندھی،نہرو اور جناح کی طرح نوآبادیاتی تیار کردہ ہی کوئی لیڈر تھا جسے امریکہ نے جناح اور گاندھی کی طرح استعمال کرنے کے لئے اْسکی حفاظت کے لئے1962 میں قیدی بنا کر جیل میں ڈال دیا تھا اورمنڈیلا نے اسی وفاداری کی قیمت جنوبی افریقہ کا صدر بن کر روس، کیوبا اور ویتنام کے بجائے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار رکھ کر ادا کیا۔
اگر اس مقولے کو نیلسن منڈیلا کا مان کر تسلیم بھی کرلیں تو سوال اٹھتا ہے کہ ایران، ترکی اور پاکستانی مقتدرہ، حکومتیں اور ان ممالک میں موجود وفاقی اور قوم پرست پارٹیاں اور ان کی قیادتیں کس حد تک اس مقولے پر کھرا اترتی ہیں۔ ہمارے قائدین کس حد تک بصیرت افروز، جرات مند اور اصولوں کے پابند ہیں؟اگر چیئرمین صاحب کے پاس ان ممالک کی قیادت یا اپنی پارٹی کے قائدین میں سے کسی کے پاس ان تینوں خوبیوں میں ایک بھی موجود ہے تو اس کا نام بتائیں۔ورنہ بیانیہ اور ڈسکورس کی اصطلاحات نئی نہیں ہیں ہردور میں اس کی بنیادیں موجود رہی ہیں۔کبھی اس کو پروپیگنڈہ کا نام دیا گیا اور کبھی ڈسکورس کا ،کبھی نفسیاتی جنگ کے نام کے طور پر یاد کیا گیا ہے حالانکہ بات وہی بلوچ مامے کی ہے کہ ’’بازیں گوشگ چہ سہر ئَ گیش اِنت‘‘۔