کوئٹہ :پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے کہا ہے کہ نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ ہے حکومت اور مقتدرہ کو اپنی پالیسیوں کو بہتر بناتے ہوئے لوگوں کو روزگار کی فراہمی اور امن کی بحالی ممکن بناکر پاکستان کو امن کا گہوارہ اور بلوچستان کو خوشحال بنانا ہوگا کیونکہ امن اور ترقی کے بغیر مثبت معاشرے کی تشکیل نا ممکن ہے نوجوان نسل اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے منفی راستوں کو ترک کرکے مثبت راہ پر گامزن ہوں تاکہ اپنے اکابرین کی قربانیوں کو مشعل راہ بناکر آگے بڑھ سکیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے والد نوابزادہ سراج خان رئیسانی 7 ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب کے بعد سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے مشیر محنت و افرادی قوت بابا غلام رسول عمرانی، میر فرید رئیسانی، سردار عمران بنگلزئی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کے حالات بہت خراب ہے جس طرح محکمہ داخلہ کی حالیہ 6 ماہ کی بلوچستان کے امن وامان کے حوالے سے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق 45 فیصد حالات خراب ہے اور یہ ہماری وفاقی اور صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ پاک فوج ، فرنٹیئر کور ، پولیس ، لیویز ، سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں کا از سرنو جائزہ لیکر انہیں بہتر بنائیں کہ آج ہمارا تعلیم یافتہ نوجوان اپنے حقوق کے حصول اور روزگار کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے منفی راستے پر چل رہا ہے اس حوالے سے میں نے وفاقی حکومت ، وزیر اعظم پاکستان سے بھی بات کی ہے کہ ہمیں بلوچستان کی موجودہ صورتحال اور بد امنی کو نذر انداز نہیں کرنا چاہئے اور اپنی گڈ گورننس کو یقینی بنانا چاہئے تاکہ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ صحت کی سہولیات بلا رکاوٹ کے مہیا کرسکیں کیا وجہ ہے کہ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان دشمن کے وژن کے تحت ہمارے خلاف صف آراء ہے اس کا سدباب ناگزیر ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے 18 سے 25 سال کے نوجوان روزگار کی عدم فراہمی کی وجہ سے پہاڑوں کا رخ کررہے ہیں ہمیں ان میں پائی جانے والی مایوسی اور ان کے تحفظات کو دور کرتے ہوئے ریاستی بیانیہ کو مستحکم بناکر زندہ رکھنا ہے تاکہ ہم اپنے ریاستی بیانیہ پر عمل پیرا ہوکر اپنی نسلوں کو آگے لیکر چلے انہوں نے کہا کہ ہمارے ایکشن ری ایکشن کی وجہ سے فوجی اور سویلین ، اساتذہ ، سکالر بھی اس بیانیہ کو تقویت نہیں دے سکیں ہمیں سوشل میڈیا کے ٹول کو بھی استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو بہتر راہ دکھانی ہے کیونکہ ہماری نوجوان نسل دشمنوں کے منفی بیانیہ پر سوشل میڈیا کے ذریعے متاثر ہورہی ہے اس لئے ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کیلئے ریاست کی جانب سے اس کی آئینی ، قانونی اور جمہوری ذمہ داری کو نبھانا ہوگا تاکہ بلوچستان کے حالات کو بہتر بناتے ہوئے پر امن پاکستان اور خوشحال بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر بناسکیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر آنے والی حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے حوالے سے شش و پنج کا شکار رہتی ہے کہ ہم ڈھائی ڈھائی سال حکومت کریں گے یا اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرسکیں گے یا نہیں ہونا تو چاہئے کہ ہر آنے والی حکومت اپنی پانچ یا 10 سالہ مدت پوری کریں تو وہ اپنی مدت کے حساب سے پالیسیاں بناکر منصوبے شروع کریں تاکہ انہیں بروقت مکمل کیا جاسکے اور لوگوں کو ان کے ثمرات مل سکے موجودہ حکومت کو وفاق کی جانب سے مکمل سپورٹ اور تعاون حاصل ہے اس لئے انہیں اپنی ڈیڑھ سالہ مدت میں جو کارکردگی ہے وہ عوام کے سامنے لانا چاہئے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جو حالات ہے
سیاستدانوں کو اس جنگ اور بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے جو اقدامات اٹھانے ہیں وہ اٹھائے جائیں جو صورتحال پیدا کی گئی ہے وہ حقوق کے حصول یا روزگار کی فراہمی کے علاوہ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ہمیں ملک کو توڑنے اور دہشت گردی پھیلانے اور مثبت اقدامات اٹھانے والوں میں فرق کرنا پڑے گا دہشت گردوں کو دہشت گردی کی طرز پر اقدامات اٹھانے ہوں گے افواج ، سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے طور پر نمٹے تاکہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کرسکیں اور ان کے دیرینہ مسائل کے حل کو ممکن بنایا جائے۔
کیونکہ لوگ اپنے مسائل کا حل امن کی بحالی ، روزگار کی فراہمی ، تعلیم، صحت اور پینے کا صاف پانی ، مواصلاتی سسٹم کی بہتری چاہتے ہیں اور لوگ اپنے تعلیم یافتہ بچوں کا بہتر مستقبل کے خواہاں ہے ہم بھی اپنے شہداء کے متعین کردہ امن کے راستے کے پیرو کار ہیں اور بلوچستان میں امن کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اور بلوچستان کی سرزمین پر امن کی بحالی میں نوجوانوں کا عملی کردار ہے اس لئے ہمیں اپنے نوجوانوں کو سینے سے لگانے اور ان کے دکھوں کا مداوا کرتے ہوئے زخموں پر مرہم رکھنا ہوگا کرپشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرپشن وہ چھتری ہے جس کے سایہ تلے امن وامان کی بحالی ترقی کا سفر تعلیم، صحت ، روزگار کی فراہمی سمیت تمام شعبے آگے بڑھ سکتے ہیں ہمارے ملک میں 3 طرح کی کرپشن ہورہی ہے جس میں وائٹ، گرے اور بلیک کرپشن شامل ہے اس لئے ہمیں بلیک کرپشن کا راستہ گرے تک آنا چاہئے تاکہ لوگوں کو اٹھائے جانے والے اقدامات کا معلوم ہوسکے اور سیاستدانوں کو اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے آگے آنا ہوگا تاکہ بلوچستان میں امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں ہم آج شہداء درینگڑھ کی ساتویں برسی عقیدت و احترام سے منارہے ہیں انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور میرا نوجوانوں کے لئے یہی پیغام ہے کہ وہ امن کی بحالی کیلئے اپنی خدمات سر انجام دیں جو نوجوان تعلیم کا حصول مکمل کرکے منفی راستے پر گامزن ہیں انہیں اپنی قوم ، صوبے اور وطن کے لئے مثبت راستے پر چلنا ہوگا کیونکہ ہمارے اکابرین نے قربانیاں دیکر بلوچستان کو تقویت دی ہے اور ہم نے ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے قربانیاں دینے سے ترقی کے منازل حاصل کی جاسکتی ہے ہم سب کا واحد ذریعہ پر امن پاکستان اور خوشحال بلوچستان ہے اس لئے ہمیں قربانی دیتے ہوئے اپنے وطن عزیز کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ آگے بڑھ سکیں۔