ہمئے، ضلع چاغی، بلوچستان | 14 جولائی 2025: ریکودک صرف کان کنی کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسا موقع ہے جو مقامی کمیونٹیز کے لیے آئندہ کئی دہائیوں تک معاشی و سماجی ترقی کی ضمانت ہے۔ ان خیالات کا اظہار بیرک مائننگ کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک برسٹو نے ریکودک منصوبے سے قریبی ہمئے گاؤں کے دورے کے دوران مقامی افراد سے گفتگو میں کیا۔ جس کے دوران انہوں نے اس عزم کو دہرایا کہ ریکودک مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی) روزگار، تعلیم اور صحت کے اقدامات کے ذریعے بلوچستان کے عوام کی معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
مارک برسٹو نے کہا: “ہم نہ صرف آر ڈی ایم سی بلکہ اپنے پارٹنرز اور سپلائر کمپنیوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ہم نے تعلیم اور ہنر سکھانے کے پروگرام شروع کیے ہیں تاکہ مقامی افراد ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔” انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت آر ڈی ایم سی کی 75 فیصد افرادی قوت بلوچستان سے تعلق رکھتی ہے، جن میں اکثریت ضلع چاغی سے ہے، اور کمپنی کا ہدف اس مقامی نمائندگی کو مزید بڑھانا ہے۔
معاشی و تعلیمی اقدامات کے ساتھ ساتھ آر ڈی ایم سی نے خطے میں صحت کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ ہمئے گاؤں میں قائم صحت مرکز اور حال ہی میں شروع کیا گیا ماں اور بچے کی صحت کا مرکز مقامی لوگوں کو معیاری بنیادی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اس علاقے کی خواتین کو ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں جامع طبی سہولیات مقامی سطح پر میسر آئی ہیں۔
مارک برسٹو نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی کمیونٹیز ریکودک منصوبے کی کامیابی کی کلیدی شراکت دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “دنیا میں معدنی وسائل کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہاں رہنے والے لوگ اس میں شامل ہوکر اس کی بھرپور حمایت کریں،”
ہمئے گاؤں کے چیف ملک لیاقت محمدزئی اور پرِ کوہ کمیونٹی ڈیولپمنٹ کمیٹی (CDC) کے چیئرمین تاج محمد محمدزئی نے مارک برسٹو کی مقامی کمیونٹی سے مسلسل وابستگی کو سراہا اور ریکودک منصوبے کے ذریعے ہمئے میں ترقی اور نئے مواقع لانے پر آر ڈی ایم سی کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ریکودک منصوبے کی مسلسل ترقی کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
مارک برسٹو کے ہمراہ آر ڈی ایم سی کی اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی جن میں کنٹری منیجر ضرار جمالی، جنرل مینیجر (ریکودک سائٹ) رائن مچل، سینئر نائب صدر (ہیڈ آف گورنمنٹ اینڈ کارپوریٹ افیئرز) وو لی، ہیڈ آف سسٹین ایبلٹی ایشلے پرائس، ایگزیکٹو برائے منرل ریسورس مینجمنٹ اینڈ ایویلیوایشن سائمن بوٹمز اور منصوبے کی ٹیم کے دیگر ارکان شامل تھے۔