بلوچستان میں ’’غیرت کے نام پر قتل‘‘قتل ایک انسان نہیں ہو رہا، پورا سماج لاش بنتا جا رہا ہے ہر سال درجنوں عورتیں اور نوجوان صرف اس لئے مار دیئے جاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی جسارت کی لیکن اس قتل میں صرف کسی فرد کا ہاتھ نہیں ہوتا، یہ قتل ایک نظام کرتا ہے ،اس میں قبائلی، پدرشاہی، ظالمانہ اور ریاستی نظام شامل ہیں،
قبائلی نظام … سردار کے فتویٰ سے قبر تک۔بلوچستان میں سردار، جرگہ اور قبائلی فیصلے آج بھی آئین، قانون اور انسانی حقوق پر حاوی ہیں، اگر ایک لڑکی اپنی پسند سے شادی کرے، اگر ایک نوجوان کسی عورت سے بات کرے، اگر ایک بہن تعلیم حاصل کرنا چاہے تو یہ قبائلی غیرت کے خلاف بغاوت سمجھی جاتی ہے اور اس بغاوت کی سزا موت ہے،یہ کوئی روایات نہیں، یہ صریح بربریت ہے جو نسل در نسل عورتوں کے خون سے سینچی جا رہی ہے۔
ریاستی قانون:2016 کا قانون جو غیرت کے قتل میں خاندان کی معافی کو بے اثر قرار دیتا ہے، محض کاغذ کی حد تک ہے،2024 میں پاکستان بھر میں 547 عورتیں غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، بلوچستان میں کم از کم 32 مگر سزا صرف ایک قاتل کوملی، کیا یہ عدل ہے؟
ریاست بلوچستان میں جرگہ سسٹم پر چپ ہے، پولیس قبائلی اثرات کے نیچے دب چکی ہے عدالتیں یا تو خاموش ہیں یا مغلوب ہیں،اگر ہم اب بھی خاموش رہے تو ہر لڑکی جو خواب دیکھے گی، ہر بیٹی جو خود سوچے گی، وہ کسی کچی قبر کی زینت بنا دی جائے گی ہمیں سوال اٹھانا ہوگا:کیوں قاتل کو صرف ’’غیرت‘‘ کا بہانہ دے کر بخشا جاتا ہے؟کیوں بلوچستان میں قانون سے زیادہ جرگہ کو طاقت حاصل ہے؟ریاست کہاں ہے جب عورتوں کی لاشیں ویرانوں میں ملتی ہیں؟مطالبہ: انصاف، قانون، اور اصلاح ہم بطور سیاسی کارکن یہ مطالبہ کرتے ہیں: جرگہ اور اور سرداری فیصلوں کو غیرقانونی قرار دے کر ان پر پابندی لگائی جائے، غیرت کے نام پر قتل کے ہر کیس میں ازخود نوٹس لے کر انصاف کو یقینی بنایا جائے، پولیس کو قبائلی دباؤ سے آزاد کر کے انسانی حقوق پر تربیت دی جائے، خواتین کو قانونی، سماجی اور معاشی تحفظ فراہم کیا جائے، بلوچستان میں سماجی تبدیلی کے لیے تعلیمی و میڈیا مہم شروع کی جائے،یہ لڑائی صرف عورتوں کی نہیںیہ ہر زندہ آزاد انسان کی جنگ ہے اگر آج ہم نہیں بولے، تو کل ہم بھی کسی ’’غیرت‘‘ کے قانون کا شکار ہو سکتے ہیںخاموشی جرم ہے اور غیرت کے نام پر قتل نسل کشی ہے۔