اسد بلوچ نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اس ایوان میں آنے والے عوامی میڈیٹ لے کر آتے ہیں جو قانون سازی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرے گھر پر 9 جولائی کو سی ٹی ڈی نے چھاپہ مارا اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا، حالانکہ میں خود ان کے ساتھ جانے کو تیار تھا،
لیکن چھاپے مارنے سے آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ میرے آنکھوں پر پٹی باندھنا کہاں کا اصول ہے؟ میں نے صرف پارلیمانی سیاست کی ہے، کیا یہ کوئی گناہ ہے؟ مجھے پہاڑوں پر جانے کے لیے مجبور نہ کریں۔ ان تمام تحفظات کے اظہار کے بعد اسد بلوچ ایوان سے واک آؤٹ کر کے چلے گئے۔