کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبد الخالق اچکزئی کی صدارت میں 45 منٹس کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں غیرت کے نام پر دہرے قتل کے حوالے سے مذمتی قرارداد، وقفہ سوالات اور سرکاری کارروائی شامل تھی۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے افراد اور سیکورٹی فورسز اہلکاروں کے فاتحہ خوانی کی گئی۔ ملک اسلامی جمہوریہ ہے اور اس ایوان میں آنے والے میڈیٹ لے کر آتے ہیں جو قانون سازی کرتے ہیں، اسد بلوچ نے کہا۔ انہوں نے بتایا کہ 9 جولائی کو سی ٹی ڈی نے ان کے گھر چھاپہ مارا اور چادر و دیوار کو پامال کیا۔ اسد بلوچ نے کہا کہ وہ سی ٹی ڈی کے ساتھ جانے کو تیار تھے اور چھاپے مارنے سے دیے جانے والے پیغام کی وضاحت طلب کی۔ انہوں نے آنکھوں پر پٹی باندھنے کو غیر قانونی قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے پارلیمانی سیاست کا کوئی جرم نہیں کیا، انہیں پہاڑوں پر جانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اسد بلوچ واک آوٹ کرکے ایوان سے چلے گئے۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی شاہراہوں پر مسلح افراد لوگوں کو بسوں سے اتار کر قتل کر رہے ہیں، علی مدد جتک نے کہا۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کونسی قبائلیت ہے اور ان دہشت گردوں کا سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ بلوچ اور پشتون روایات میں مہمانوں کو شہید نہیں کیا جاتا۔ مستونگ سے بیلہ تک تمام کاروبار دہشت گردی کی وجہ سے بند ہیں اور لوگ بے روزگار ہو رہے ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن نے اسد بلوچ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی مذمت کی اور کہا کہ مصور کاکڑ کی لاش ملی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ شام 5 بجے سے صبح تک لوگ سفر نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ دن میں حکومت صرف 4 گھنٹے فعال ہے اور باقی وقت دراندازی ہوتی ہے۔ حکومت کا کام ہے کہ عوام کو قومی شاہراہوں پر تحفظ فراہم کرے۔ بارڈر بند ہونے سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے واقعات کے باوجود کوئی سیکورٹی آفیسر معطل نہیں ہوا۔ بلوچستان اسمبلی میں وقفہ سوالات موخر کر دیے گئے۔
ایوان میں شیخ محمد بن زید النہیان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا مسودہ قانون 2025 پیش کیا گیا، جسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ بلوچستان اسمبلی میں غیرت کے نام پر دہرے قتل کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی گئی، جو ویمن پارلیمانی کاکس کی ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ اور دیگر خواتین اراکین نے پیش کی۔ کوئٹہ کے نواحی علاقے سینجدی ڈیگاری میں غیرت کے نام پر نہتے مرد اور خواتین کا قتل قابل مذمت ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ غیرت کے نام پر قتل کسی بھی صوبائی، قومی، سماجی یا مذہبی روایت سے تعلق نہیں رکھتا۔ یہ غیر قانونی انسانی عمل ہے جو قانونی، سماجی اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔ کسی فرد کو منصف بننے کا حق نہیں، انصاف دینا صرف ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ اس سفاکانہ عمل میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ صوبے بھر میں ڈیگاری واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی نے کہا کہ یہ واقعہ پورے معاشرے کو جھنجوڑ گیا ہے۔ ہمیں حقائق نہیں معلوم، کمیٹی کی کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے، اور مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعات ختم نہیں ہوئے بلکہ ان کی شدت بڑھ گئی ہے۔ عید سے پہلے کا واقعہ ہے اور ویڈیو اب وائرل ہوئی ہے۔ عدالتوں کے بغیر اس مسئلے سے کیسے آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جو ڈیگاری واقعے کی تحقیقات کی نگرانی کرے گی۔بلوچستان اسمبلی کااجلاس 25جولائی 2025 دن 3 بجے تک ملتوی