|

وقتِ اشاعت :   July 27 – 2025

آواران :  آواران بلوچستان کے پسماندہ ضلع آواران میں محکمہ زراعت توسیع کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، جہاں کسانوں کا کہنا ہے کہ محکمہ صرف فائلوں اور کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ عملی سطح پر کوئی خدمات مہیا نہیں کی جا رہیں۔

مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں نہ تو جدید زرعی ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی موسمی حالات کے مطابق رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ “ہم اپنی مدد آپ کے تحت کاشتکاری کر رہے ہیں، لیکن سرکاری اداروں سے کوئی مدد نہیں ملتی۔ذرائع کے مطابق، محکمہ زراعت کے بیشتر اہلکار فیلڈ میں جانے کے بجائے دفتر تک محدود رہتے ہیں، جبکہ سرکاری رپورٹس میں تمام سرگرمیاں مکمل دکھائی جاتی ہیں۔

اس تضاد نے شفافیت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

محکمہ زراعت کے مقامی دفتر سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم کوئی مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔ علاقے کے سماجی رہنماؤں اور کسان تنظیموں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ زراعت توسیع کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، اور آواران کے کسانوں کو عملی طور پر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ زراعت کو ترقی دی جا سکے اور مقامی معیشت مستحکم ہوسکے۔