|

وقتِ اشاعت :   May 25 – 2016

کو ئٹہ:  بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ دشت میں جاری آپریشن میں شدت لائی گئی ہے۔ آٹھ دن سے جاری آپریشن اور محاصرے میں مزید فورسز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی گوادر اور تربت سے ہیلی کاپٹر مسلسل دشت کے مختلف علاقوں آکر بمباری کرتے ہیں ۔ آٹھ دن سے جاری محاصرہ کی وجہ سے علاقہ مکین سخت مشکل میں مبتلا ہیں ۔ ساتھ ہی علاقے کے گھروں اور دکانوں میں فورسز کی لوٹ مار نے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ جس سے خوراک کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ ساتھ ہی کئی بلوچ فرزندوں کو اغوا کرکے لاپتہ کیا گیا ہے۔ دشت کروس تنک سے ٹاپک ولد ابراہیم ساکن کوچہ، عبدالوحید ولد نورمحمد ساکن لنگاسی، حلیم ولد حمزہ ساکن کروس تنک ، نصرت ولد عبداللہ ساکن پیروتگ اور ایاز ولد مجید ساکن پیروتگ کو اغوا کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے۔ تمپ آسیاباد اور کورجو میں گھروں میں گھس کر فورسز نے خواتین اور بچوں پر تشدد کی اور کئی افراد کو اغوا کیا۔ جن میں ماسٹر غالب بلوچ، ماسٹر خالد، عباس ولد حفیظ ، خدا داد، ملا لیاقت، اور ماسٹر محمدشامل ہیں ۔ کل آواران چیدگی سے نصیب ولد یار محمد، امان ولد کریم اور ریاض ولد غوث بخش کو اغوا کرکے لاپتہ کیا اور آج ریاض ولد غوث بخش کی لاش ہسپتال پہنچائی گئی ۔ 22 مئی کو تربت کے علاقے بگ زعمرانی سے اقبال ولد قادر بخش کو گھر سے اُٹھا کر لاپتہ کیا، جو ایک ڈرائیور اور مزدور پیشہ شخص ہے۔ کل مشکے نوکجو سے سیف اللہ اور چاکر اور ہارونی سے عبدالنبی ، بشیر، شبیر اور شیرا نامی افراد کو فوج نے اغوا کیا ہے۔ غرض یہ کارروائیاں بلوچستان کے کونے کونے میں شدت سے جاری ہیں۔ دشت آپریشن اور بمباری کی نقصانات کی تفصیل آنا باقی ہیں، کیونکہ تمام علاقہ فورسز کے محاصرہ میں ہے۔ پاکستان کئی دہائیوں سے بلوچستان میں انسانی حقو ق کی پامالی کر رہا ہے، مگر اقوام متحدہ سمیت تمام ادارے پاکستان کی تمام کرتوتوں پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں ۔ اگر دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور یورپ کی مدد کر رہا ہے تو یہ پالیسی بہت پہلے ہی غلط ثابت ہوچکی ہے۔ پاکستان اسی پر دنیا کو بلیک میل کرکے اپنی گرتی معیشت کو ایندھن فراہم کررہا ہے۔ یکے بعد دیگرے طالبان اور القاعدہ رہنماؤں کا پاکستان میں موجودگی اس بات کی واضح دلیل ہیں ۔ ہفتے کے دن طالبان امیر ملا منصور محمد اختر کا احمدوال میں مارا جانا ایک اور ثبوت کا اضافہ ہے۔ عالمی برادری کو پاکستان اور اس خطے کے بارے میں اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا چاہیے۔ خطے میں آزاد بلوچستان کا وجود امن کا ضامن ہے۔