|

وقتِ اشاعت :   August 7 – 2025

بلوچستان میں صحت کا شعبہ بحران کا شکار، ڈیجیٹل اصلاحات اور بھرتیوں کا عمل جاری: سیکرٹری صحت

کوئٹہ: بلوچستان کے سیکرٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی اور صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے صحت کے شعبے کی مجموعی صورتحال، چیلنجز اور جاری اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ سیکرٹری صحت نے انکشاف کیا کہ صوبے کے 80 فیصد علاقے تاحال ہیلتھ کوریج سے محروم ہیں، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی جیسے سنگین مسائل درپیش ہیں۔

عملہ غیر تربیت یافتہ، بی ایچ یوز پر خطیر اخراجات

مجیب الرحمٰن کے مطابق، “نرسز اور دیگر پیرامیڈیکل اسٹاف موجود تو ہیں، لیکن انہیں کام کرنا نہیں آتا۔” انہوں نے بتایا کہ بیسک ہیلتھ یونٹس (بی ایچ یوز) کی تعمیر پر بھاری مالی بوجھ آتا ہے، جس کے باعث ان کا دائرہ کار محدود ہے۔

محکمہ صحت میں  پریشر گروپس

سیکرٹری صحت نے یہ اعتراف بھی کیا کہ محکمہ صحت میں مختلف پریشر گروپس فعال ہیں، جو اصلاحاتی اقدامات میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی شعبہ صحت کو فعال بنانے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔

اصلاحات، بھرتیاں اور ڈیجیٹل اقدامات

محکمہ صحت میں خالی آسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کیا جا چکا ہے، اور اب تک 600 سے زائد ڈاکٹرز کو کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا ہے۔ ایمونائزیشن پروگرام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے، جس سے بروقت ڈیٹا کی دستیابی ممکن ہوئی ہے۔ ہیلتھ کارڈ کو بھی جدید بنایا گیا ہے اور اب یہ انگوٹھے کی بائیومیٹرک تصدیق سے منسلک ہے، جس کے ذریعے تمام علاج بالکل مفت فراہم کیا جائے گا۔

اسپتالوں میں ڈیجیٹل فارمیسی اور اے آئی کیمرے

سول اسپتال کوئٹہ اور بی ایم سی اسپتال میں ڈیجیٹل فارمیسی قائم کی گئی ہے جہاں مریضوں کو 24 گھنٹے ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ سیکرٹری صحت نے مزید بتایا کہ بلوچستان کے بڑے اسپتالوں میں اے آئی سکیننگ اٹینڈنس کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ عملے کی حاضری کو یقینی بنایا جا سکے۔

صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ ماضی میں مریضوں کو دی جانے والی ادویات کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا تھا، لیکن اب ڈیجیٹلازیشن کے بعد مکمل ریکارڈ محفوظ ہو رہا ہے۔

بولان میڈیکل کالج ہاسٹل کی بحالی

صوبائی وزیر صحت نے بولان میڈیکل کالج میں ہاسٹل سے متعلق مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہاسٹل میں اصل طلبہ کے بجائے غیر متعلقہ افراد مقیم تھے۔ حکومت نے اس ہاسٹل کی 80 کروڑ روپے کی لاگت سے تزئین و آرائش کی، اور اب تمام کمرے صرف کالج کے طلبہ و طالبات کو میرٹ پر الاٹ کیے جا چکے ہیں۔

پروموشنز اور ڈاکٹروں کا تبادلہ مسئلہ

وزیر صحت نے اعتراف کیا کہ محکمہ صحت میں کئی سالوں سے پروموشن کا عمل رکا ہوا ہے، اور اس میں رکاوٹیں بعض اوقات خود ڈاکٹرز بنتے ہیں، جو کوئٹہ کے علاوہ دیگر اضلاع میں فرائض انجام دینے سے انکاری ہوتے ہیں۔