|

وقتِ اشاعت :   August 9 – 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سے تجارت پر مذاکرات کرنے سے صاف انکار کردیا۔
امریکی صدر سے اوول آفس میں صحافی نے سوال کیا کہ ‘ کیا وہ بھارت سے ٹیرف کے معاملے پر بات چیت کریں گے’؟ امریکی صدر نے صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ‘جب تک ٹیرف کا تنازع حل نہیں ہو جاتا بھارت کے ساتھ کسی قسم کے تجارتی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
امریکی صدر نے بھارت کو روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کی صورت میں اضافی ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی جس کے بعد بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری میں کمی نہ کرنے پر امریکا نے بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا تھا\۔
امریکا کی جانب سے بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف کے بعد اب بھارت پر مجموعی امریکی ٹیرف 50 فیصد ہوگیا ہے۔
امریکی ٹیرف عائد ہونے کے بعد بھارتی وزات خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارت پراضافی ٹیرف عائد کرنے کا امریکی اقدام بے حد افسوسناک ہے، بھارت جو کررہا ہے وہی اقدامات کئی دوسرے ممالک بھی اپنے قومی مفاد میں کررہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی اقدام ناانصافی پر مبنی، بلاجواز اور غیرمنصفانہ ہے، بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
اب امریکی ٹیرف میں اضافے سے بھارت کی 55فیصد برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے مختلف صنعتی شعبے متاثر ہونگے جس سے بھارتی معیشت پربہت برے اثرات مرتب ہوں گے اور اس کے اثرات بھارت کی ڈی پی شرح ترقی پر پڑینگے۔
مستقبل میں بھارتی معیشت کو بڑا دھچکا لگے گا۔ بھارت امریکہ تعلقات اس وقت شدید متاثر ہیں بھارت کے اندر اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے مودی سے نہ صرف وضاحت طلب کی جارہی ہے بلکہ ان سے مستعفی ہونے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کیونکہ مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کو عالمی سطح پر بہت سے محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
بہرحال مودی سرکار کو اب اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی پڑے گی وگرنہ مستقبل میں بھارت کو تجارتی محاذ پر مزید خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔