ضلع گوادر مستقبل میں نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک کا معاشی حب بننے جارہا ہے، یہ شہر سی پیک کا محور و مرکز ہے ، یہاں اہم منصوبوں پر کام کیا جارہا ہے تاکہ ملک میں معاشی انقلاب آسکے ۔
اس کی اہمیت عالمی سطح پر مسلمہ ہے۔
بڑے ممالک اور انٹرنیشنل کمپنیاں یہاںسرمایہ کاری کرنے جارہے ہیں مگر گوادر کے بنیادی مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں خاص کر پانی کی کمی کا مسئلہ دیرینہ ہے جس کے حل کیلئے مختلف ڈیمز کی تعمیر اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے منصوبے بنائے گئے مگر مسئلہ حل نہیں ہوا ۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں سمندری پانی سے نمک نکالنے کا ایک ارب روپے سے زائد کا منصوبہ بنایا گیا لیکن وہ پلانٹ ناکام ہوا۔
ماضی سے لے کر اب تک شہریوں کی پانی کی طلب پوری نہیں ہوسکی ،شہری واٹر ٹینکر کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کررہے ہیں یہ ایک المیہ ہے ایک ایسا ضلع جہاں اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہورہی ہے وہاں کے باشندے پانی تک سے محروم ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ گوادر جیسے معاشی حب کے لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنااولین ترجیح ہونا چاہئے خاص کر بنیادی سہولیات حکومت سمیت وہاں پر سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حلقے کو زیادہ فوقیت دیں تاکہ وہ ترقی کے عمل سے مستفید ہوں احساس محرومی کا شکار نہ ہوں۔
بلوچستان کے ضلع گوادر میں پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں رکن صوبائی اسمبلی گوادر مولانا ہدایت الرحمٰن اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں گوادر میں قلتِ آب سے نمٹنے کے لیے فوری اور طویل المدتی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ جاری آبی منصوبوں پر کام تیز کیا جائے اور تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
چیئرمین گوادرپورٹ اتھارٹی نے اجلاس کو بریفنگ میں بتایا کہ واٹر سیلینیشن پلانٹ کو 3 لاکھ گیلن یومیہ کی سطح پر بحال کر دیا گیا ہے اور اس کی استعداد 6 لاکھ گیلن یومیہ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے حکم دیا کہ بجلی کی بندش کے دوران پلانٹ کو متبادل توانائی پر منتقل کر کے پانی کی ترسیل بلا تعطل جاری رکھی جائے۔
انہوں نے شادی کورڈیم سے پانی کی فراہمی کے لیے رابطے تیز کرنے اورآبی پائپ لائن منصوبے 15 روز میں مکمل کرنے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قلتِ آب سے نمٹنے کے لیے چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی کی سربراہی میں مختلف محکموں کے سربراہان پر مشتمل رابطہ کمیٹی قائم کی جائے جو روزانہ کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کو پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ گوادر میں پانی کی قلت کا مسئلہ ہر صورت حل کیا جائے گا اور کسی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل بندش کے مسئلے پر وزیر اعظم اور پاور ڈویژن سے بات کی جائے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ وہ خود آبی صورتحال کی پیش رفت کی نگرانی کریں گے تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا بروقت حل نکالا جا سکے۔
بہرحال گوادر میں پانی کے دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے ،آبی منصوبوں کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ گوادر کے عوام کو پینے کا صاف پانی میسر ہو جو ان کا بنیادی حق ہے۔
امید ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی گوادر میں قلت آب کا مسئلہ حل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائینگے اور گوادر کے عوام کو پانی کی فراہمی یقینی بنائینگے۔