گوادر :گوادر میں پانی اور بجلی کے سنگین بحران کے پیش نظر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان اور چیرمین گوادر پورٹ نورالحق بلوچ نے مشترکہ طور پر کی۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر گوادر، گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے)، کیسکو، چینی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شہر میں 20 سے 30 دن تک پانی دستیاب نہیں ہوتا، جب کہ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے، جس کے باعث گھریلو و صنعتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ مکران ڈویژن کو 128 میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے، تاہم ٹرانسمیشن لائنز صرف 80 میگاواٹ بجلی منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایران سے بجلی کی فراہمی دن کے وقت 12 گھنٹے تک معطل رہتی ہے، جب کہ نیشنل گرڈ کی بجلی کی فراہمی میں بار بار تعطل اور اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
چیرمین گوادر پورٹ نے کیسکو افسران کو مسائل کی وضاحت کی ہدایت دیتے ہوئے اعلان کیا کہ کیسکو سے متعلقہ الگ اجلاس جمعرات کو ہوگا۔
اجلاس میں پانی کی غیر مساوی تقسیم پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بتایا گیا کہ طاقتور افراد بڑے کنکشن حاصل کر کے زیادہ پانی لے جاتے ہیں، جب کہ عام گھرانے پانی کی قلت کا شکار رہتے ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پانی کی تقسیم برابری کی بنیاد پر یقینی بنائی جائے۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گوادر میں پانی و بجلی کے بحران کو وفاقی اور صوبائی سطح پر بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا اور عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔