کوئٹہ : جمعیت علما اسلام بلوچستان کے امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع نے بلوچستان میں دینی مدارس پر چھاپوں کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 مئی کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔
10 مئی کو مدارس کے طلباء اور جماعت کے کارکن اندرون صوبہ سے کوئٹہ کی جانب مارچ کریں گے اور بلوچستان اسمبلی میں بھی اراکین صوبائی اسمبلی بھر پور احتجاج کریں گے۔
جماعت کے قائد مولانا فضل الرحمن 4 جون کو پشین میں جمعیت علماء اسلام کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو صوبائی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے حوالوں سے جماعت کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
اس موقع پراپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، مولانا صلاح الدین، مولانا فیض محمد، آغا محمود شاہ، ملک سکندر ایڈووکیٹ، مولوی غلام سرور موسیٰ خیل، مولانا حافظ حسین احمد شرودی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
مولانا عبدالواسع نے کہا کہ الیکشن میں ہمارے ساتھ دھاندلی کی گئی موجودہ دور میں ہمارے اراکین کے فنڈز روکے گئے ہم نے ملک میں جمہوریت کیلئے یہ تمام مشکلات برداشت کی ہے مگر مدارس ہماری ریڈ لائن ہیں اس پر چھاپے برداشت نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو آج تک کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ وہ مدارس پر چھاپوں پر معافی مانگیں لیکن گزشتہ روز صوبائی وزرا کا تین رکنی وفد ہمارے پاس آیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ ملک سے باہر ہیں جب تک وہ واپس نہیں آتے اس وقت تک آپ اپنی تحریک موخر کردیں انہوں نے کہا کہ آج جماعت کی مجلس شوری کا اجلاس ہوا جس میں تحریک شروع کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے اور فیصلے مطابق 6مئی کو صوبے بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی اور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے جبکہ 10مئی کو بلوچستان بھر سے مدارس کے طلبا اور جماعت کے کارکن کوئٹہ کی جانب سے مارچ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا پر امن احتجاج جس میں ہماری احتجاجی تحریک پر امن ہوگی اور املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ہمارے اراکین اسمبلی پارلیمان میں احتجاج کریں گے اور اسمبلی اجلاس کی کارروائی چلنے نہیں دیں گیانہوں نے بتایا کہ جماعت کے قائد مولانا فضل الرحمن 4 جون کو پشین آئیں گے اور وہاں جمعیت علماء اسلام کانفرنس سے خطاب کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو 2 مئی کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ مدارس سے متعلق وزیر اعلیٰ معافی مانگیں اور نوٹیفکیشن واپس لے تا حال اس حوالے سے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں حکومت نے سوسائٹی ایکٹ پاس کرکے مدارس کی رجسٹریشن لازمی قرار دی ہے جس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اسی طرح مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے حوالے سے ہمارے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا نہیں کیا گیا حکومت نے ایک ہفتہ کی مہلت مانگی تھی جس کو اجلاس میں مسترد کردیا گیا ہے اگر 5 مئی کو ہونے والے اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے پر ترمیم حصہ ہوئی تو حکومت سے اظہار تشکر کے طور پر منائیں گے ورنہ 10 مئی کو بلوچستان بھر سے کوئٹہ کی جانب رخ کریں گے
کیونکہ وزیرا علیٰ نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے اور ہوشن کے ناخن لیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم میں قومی اسمبلی سے مدارس کا ایکٹ پاس ہوچکا ہے صوبوں نے عملدرآمد کروانا ہے جس پر تا حال کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
Leave a Reply