|

وقتِ اشاعت :   August 24 – 2025

کوئٹہ:  پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے خیبر پشتونخوا کے مختلف علاقوں میں بونیر ، صوابی،سوات، شانگلہ میں حالیہ طوفانی بارشوں، سیلابوں ،کلوڈ برسٹ قدرتی آفت سے متاثرہ مقامات کا دورہ اور ہونیوالے نقصانات کا جائزہ لیا ۔

محمود خان اچکزئی نے بونیر کے گوردوارہ (درمسال)جاکر سکھ برادری سے ہمدردی کا اظہار کیا او سکھوں کی تاریخی ثقافتی ورثے او تاریخی آثار معائنہ بھی کیا۔ سکھ برادری کے تمام بزرگوں اور رہنماؤں نے محمودخان اچکزئی کا شکریہ ادا کیا۔

محمودخان اچکزئی نے بونیر کے کلی پیر بابا ، کلی بٹی، کلی بیشون، کلی گوکند ،کلی قادر نگر، کلی گڈون امازئی، کلی داروڑی، کا بھی دورہ کیا ۔

وہاں پر پیر بابا کے مزارپر جاکر دعا بھی کی اور مقامی لوگوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پرتحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی، پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری موسیٰ باچا، خیبر پشتونخوا کے صوبائی صدر ڈاکٹر محمد علی، جنوبی پشتونخوا کے صوبائی صدر عبدالقہار خان ودان،پنجاب کے صوبائی صدر جانان افغان، سلیم خان، اصغر خان، ھمایوں خان ،نصیر ننگیال، حاجی یونس مومند، ریاض خان، ازل خان ،شکور خٹک ،مصطفی خان، اجمل خان اور دیگر کارکن ہمراہ تھے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ شیر شاہ سوری نے درخت کاٹنے اور انسانی قتل کو برابر جرم قرار دیا تھا ، انسانوں نے قدرتی نظام کو نقصانات پہنچائے جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں ظہور پذیرہوئی اور کلائمٹ چینج بارشوں ، طوفانوں اور سونامیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جن ممالک نے اپنے کارخانوں اور مختلف گیس کے ذریعے قدرتی نظام کو نقصان پہنچایا وہ ان طوفانی نقصانات کے ازالے میں انسانوں کی امداد کرکے اپنی ذمہ داری نبھائے۔ ہمیں اپنے درختوں کو نہیں کاٹنا چاہیے اگر مجبوراً کاٹنا بھی پڑے تو ایک درخت کے کاٹنے پر 2نئے درخت لگانے چاہیے۔

ہمارے قومی اور صوبائی حکومتیں درخت کاٹنے پر پابندی لگائیں ۔

ہر ذیست کے لیے موت ہے ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہر نفس ہر سان لینے والے کو موت کا ذائقہ چکنا ہے ان جیسی آفات کبھی کبھار آتی ہیں ۔

پہلے 2010میں پشتونخوا وطن کے سوات کو بہت بڑے نقصانات اُٹھانے پڑے جن میں لوگوں کے جان ومال املاک سڑکیں ، مارکیٹیں ، برجز، گھر ، دکانیں ، بازار بہت کچھ پانی اپنے ساتھ بہاکر لے گئے ۔

کوئٹہ کے ہنہ اوڑک میں بھی 2022کے سیلاب میں باغات ، گھر ، سکول کو بہا کرپانی لے گئی ۔

اب ایک مرتبہ پھر یہاں صوابی ، بونیر ، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی ہے ۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس ملک کے بالائی حصہ میں رہتے ہیں ۔ پانی ہمیں صرف 2گھنٹے میں اتنے نقصانات دے جاتی ہے کہ جس کا تخمینہ نہیں لگایا جاسکتا جبکہ میدانی علاقوں میں یہ پانی جاکر جہاں جمع ہوجاتی ہے اور مہینوں جمع رہتی ہے تو لوگ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ طوفان وہاں آیا ہے ۔

لوگ امدادی کام اور کارروائیاں وہاں شروع کردیتے ہیں ۔

ہمیں دنیا کو یہ بتا دینا چاہیے کہ جب آپ امداد کرتے ہیں تو بالائی پہاڑی علاقوں کے لیے الگ جبکہ میدانی علاقوں کے لیے الگ امداد دیں آج جو کچھ ہم نے یہاں دیکھا جانی نقانات کا تو کوئی ازالہ نہیں۔

سینکڑوں قیمتی جانیں ہم گنوا چکے ہیں لیکن ہم اگر صرف مالی نقصانات کا اندازہ لگائیں تو کھربوں مالیت کی ہمارے مالی نقصانات ہوچکے ہیں ۔

پوری پوری مارکیٹیں اور بازار پانی میں بہہ چکے ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج انسانوں نے ترقی کے منازل طے کیئے ہیں ۔ سائنسدان کائنات کے تمام نظام کو سمجھنے کے لیے لگے ہوئے ہیں پچھلے دنوں ناسا کا ایک سیارہ مختلف خلائی مشینوں میں 9ماہ تک رہ کر زمین پر پہنچا اور بہت سے تجربات کیئے ۔

آج دنیا کے لوگ اس بات پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ طوفانی بارشیں موسمی تبدیلیاں زیادہ گرمی زیادی سردی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں بلکہ اپنے وطن کا خود ہی خیال رکھنا ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت غنی وطن دیا ہے جو دنیا کی تمام نعمتوں سے پُر ہے۔

آج اگر ہمیں اپنے وطن پر اپنا واک واختیار دیا جائے تو ہم اپنے وطن بہترین طریقے سے بناسکتے ہیں۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ ’’ہے کوئی ایسا جو مجھے قرض دے سکے؟ اور قرض یہ ہے کہ آپ مالدار ہیں تو ایک غریب اور ضرورت مند کے ساتھ مدد کریں۔ ایک روایت میں ہے کہ میں تین گنا دوسر ے روایت میں 7گنا اور تیسری روایت میں 21گنا دوگنا دونگا‘‘۔

اس لیئے ہم تمام آسودہ حال لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان آفات اور مصیبت میں اپنے بھائیوں کا ساتھ دیں اس ملک میں پشتون 8کروڑ سے زیادہ ہیں اور اس میں آسودہ حال لوگ ہیں میں میڈیا کے ذریعے ان تمام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے بھائیوں کا ساتھ دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں ضرور آزمائونگا اپنے بندوں کو کبھی جان ومال کے نقصانات سے کبھی اپنے پیاروں کے چھن جانے سے اور جس نے اس حال میں میری طرف رجوع کی اور صبر کا دامن تھام لیا تو انہیں خوشخبری سنا دو کہ وہ خوش قسمت ہیں۔ ہمیں اس مصیبت کی گھڑی میں صبر کا دامن ہر حال میں تھامنا چاہیے اور یہ کہنا ہے کہ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔(بیشک ہم اللہ کے ہیں اوراسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں )۔

محمود خان اچکزئی نے سیلاب نذر ہونیوالے انسانی جانوںکے ضیاع پر دُکھ وافسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار تعزیت اور مرحومین کی مغفرت و سوگوار خاندانوں کے صبر جمیل کے لیے فاتحہ خوانی کی ۔ ہمیں ہمت کرنی ہوگی ۔ دنیا میں پشتون واحد قوم ہے جواپنے مصافحے اور ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ ستڑی مہ شے ۔ ہم دنیا کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یہاں آکر لوگوں کی امداد کریں۔