|

وقتِ اشاعت :   September 2 – 2025

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں شاہوانی اسٹیڈیم کے باہر خودکش دھماکے کی نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دھماکہ اس وقت پیش آیا جب بی این پی کے مرکزی رہنما سردار اختر مینگل، نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی اور دیگر قائدین کا قافلہ جلسے میں موجود تھا۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ جلسے اور رہنماؤں کے لیے سیکورٹی کے مؤثر اقدامات کرتی، لیکن حکومتی غفلت نے ایک بڑے سانحے کو جنم دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ کے کرم سے قائدین محفوظ ہیں، تاہم سیاسی کارکنوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوس ناک ہے۔

نیشنل پارٹی کے سربراہ نے مطالبہ کیا کہ زخمی کارکنوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکنوں کی شہادت کسی المیے سے کم نہیں ہوتی اور ان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی شہدائے سیاست کے خاندانوں کے ساتھ مکمل اظہارِ ہمدردی کرتی ہے اور اس بڑے غم میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر بلوچستان میں سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی سلامتی سے متعلق خطرات کو اجاگر کرتا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔