تعلیم اور صحت کی سہولیات معاشرے اور ملک کی ترقی کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور صحتمند معاشرہ ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے لازم ہے۔
بلوچستان جیسے پسماندہ اور غربت کے لحاظ سے متاثرہ خطے میں انسانی وسائل پر زیادہ سے زیادہ توجہ انتہائی ضروری ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی بلوچستان میں بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے، نوجوانوں کو جدید تعلیم دے کر اورانہیں ہنر مند بناکر ان کیلئے روزگار کے بہترین پیدا کیے جاسکتے ہیں جو مختلف شعبوں سے منسلک ہوکر صوبے کی خدمت اور ترقی کے عمل میں اپنا مرکزی کردار ادا کرینگے۔
حالانکہ محدود وسائل، اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کمی کے باوجود بھی بلوچستان کے نوجوان محنت و لگن کے ساتھ تعلیمی میدان میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں، بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کے بڑے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
بلوچستان کے نوجوان نہ صرف اپنے شاندار مستقبل بلکہ معاشرے میں ترقی و خوشحالی کیلئے پر عزم ہیں۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، بیرونی ممالک میںانہیں اسکالر شپ فراہم کرکے دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کررہی ہے تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل تابناک ہو۔اس کے علاوہ صحت کے حوالے سے بھی عالمی اداروں کی شراکت داری سے بلوچستان حکومت دن رات محنت کررہی ہے تاکہ پسماندہ اور غریب عوام کو صحت کی بہترین سہولیات میسر آسکیں۔
بلوچستان میں صحت کے شعبے میں مسائل بہت زیادہ ہیں جن میں اصلاحات و بہتری لائی جارہی ہے تاکہ غریب عوام کو مفت اور بہترین طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جاسکیں۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے تعلیم و صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ انقلابی اقدام ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے گزشتہ روز پاکستان میں یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو پرنیلے آئرن سائیڈ نے ملاقات کی۔ ملاقات میں بلوچستان میں پولیو، روٹین ایمونائزیشن، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران موثر باہمی رابطہ کاری کے ذریعے فلاح عامہ کے اقدامات کو بار آور بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ یونیسف کی جانب سے محکمہ صحت کے اسٹاف کی تکنیکی معاونت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیت کی پیشکش کی گئی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صحت اور تعلیم سمیت عوامی سہولیات کے منصوبوں میں عالمی پارٹنرز کے تعاون کو سراہتے ہیں، پولیو کے خاتمے اور روٹین ایمونائزیشن کی مہم کو مزید موثر بنایا گیا ہے۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لارہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کے لیے غیر معمولی وسائل مختص کئے گئے ہیں، صحت و تعلیم کے شعبوں میں افرادی قوت کی کمی پوری کرنے کے لیے کنٹریکٹ بھرتیاں جاری ہیں،
گزشتہ ایک سال میں 3200 بند اسکول فعال کیے گئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ رواں سال کے دوران مزید 1200 نئے کمیونٹی اسکول قائم کریں گے ،پرعزم ہیں کہ سال کے اختتام تک کوئی اسکول بند نہیں رہے گا۔
یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو پرنیلے آئرن سائیڈ کا کہنا تھا کہ یونیسیف بلوچستان حکومت کے ساتھ صحت و تعلیم میں تعاون جاری رکھے گا، بلوچستان میں بچوں کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے۔
بہرحال بلوچستان میں ماضی کی نسبت تعلیم اور صحت کے شعبوں میں واضح بہترینظر آرہی ہے ،یونیسیف سمیت دیگر اداروں کے ساتھ ملکر مختلف شعبوں پر کام کیا جارہا ہے
جس کا بنیادی مقصد بلوچستان کے عوام کے مسائل کو کم اور انہیں ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ہے ،ساتھ ہی روزگار سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے جس سے آنے والے سالوں میں بلوچستان میں ترقی و خوشحالی واضح نظر آئے گی ۔