نصیر آباد:صوبائی وزیر ایریگیشن میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں ممکنہ سیلابی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ ایریگیشن روز اول سے سرگرم عمل ہے، جبکہ ڈویژنل انتظامیہ بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے متحرک رہی تاکہ عوام کے مفاد میں بروقت اور موثر اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر بیراج کا دورہ کر کے سندھ ایریگیشن حکام سے مکمل تفصیلات حاصل کی گئی ہیں اور ان کے مطابق اس وقت سیلابی صورتحال کا خطرہ ٹل چکا ہے، تاہم ہم نے سپر فلڈ کی صورت میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے تھے اور اب بھی روزانہ کی بنیاد پر تمام تر امور کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ایریگیشن نصیرآباد ڈویژن کے دورے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی سیکرٹری آبپاشی صالح محمد ناصر، چیف انجینئر کنالز ناصر مجید، سپرنگ انجینئر غلام سرور بنگلزئی، پاکستان پیپلز پارٹی نصیرآباد ڈویژن کے صدر میر بلال صادق عمرانی، پٹ فیڈر کینال کے ایگزیکٹو انجینئر فرید احمد پندرانی،صوبائی کوآرڈینیٹر فیڈرل پروجیکٹ ایریگیشن ڈیپاٹمنٹ انجینیئر سمیع اللہ بلوچ ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع ظہیر احمد عمرانی، سب ڈویژنل آفیسر سیف اللہ بنگلزئی، برکت علی کھوسہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔
صادق عمرانی نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ ایریگیشن کی مکمل ٹیم گزشتہ چار دنوں سے نصیرآباد ڈویژن میں موجود ہے جہاں کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کے ساتھ مل کر ممکنہ سیلابی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح عوام کی جان و مال کا تحفظ، شہری آبادیوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اور فصلات و مال مویشیوں کو بچانا ہے۔ سندھ حکومت کے ساتھ باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر کسی بھی ممکنہ کٹ یا شگاف سے بچائو کے لیے دونوں صوبے مل کر مشترکہ اقدامات کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے صورتحال اب کنٹرول میں ہے اور خطرہ کافی حد تک کم ہو چکا ہے۔