ملک کو سیلاب جیسی خطرناک صورتحال کا سامنا ہے جس سے کافی جانی و مالی نقصانات ہورہے ہیں۔
شدید بارشوں اور سیلاب سے شہری اور دیہی علاقوں میں تباہی ہوئی ہے ،مکانات منہدم ہوئے ہیں، لوگ بے گھر ہو ئے ہیں، انفراسٹرکچر تباہ ہوکر رہ گیا ہے، فصلیں متاثر ہوئی ہیں، ان تباہ کاریوں کے اثرات سے پورا نظام متاثر ہوا ہے، شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں جبکہ ملک کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔
پاکستان میں اس وقت سیلاب کی صورتحال کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے جبکہ ناقص منصوبہ بندی بھی ایک عنصر ہے۔
حکومتی سطح پر ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ سیلاب کی تباہی کم سے کم ہو، بارش کے تیز رفتار پانی کا بہائو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں، درخت لگانے اور جنگلات کو محفوظ بنانے کیلئے درخت کاٹنے کے عمل کو روکا جائے، بالائی علاقوں میں چیک ڈیم اور پانی ذخیرہ کرنے کے لیے چھوٹے ڈیم تعمیر کئے جائیں، فلیش فلڈز سے نقصان کی ایک اور بڑی وجہ پانی کے قدرتی راستوں پر بننے والی غیر قانونی تعمیرات ہیں۔
اس طرح کی تعمیرات کا خاتمہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
ملک کے بڑے شہروں میں بارش سے ہونے والی تباہی سے بچاؤ کیلئے نکاسی آب کا موثر نظام بنایا جائے تاکہ تیز بارشوں کے دوران شہر ڈوب نہ جائے جو لوگوں کیلئے عذاب کا باعث بنتا ہے۔
ملک میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے بہت زیادہ نقصانات ہوئے ہیں اوریہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔
سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ حکومتی سطح پر مشکل ہے اس کیلئے اقوام متحدہ، عالمی اداروں، دوست ممالک سمیت عالمی ممالک برادری کی مدد درکار ہوگی جس کیلئے موجودہ حکومت کو ان سے رجوع کرنا ہوگا تاکہ سیلاب سے پیدا ہونے والی تباہی کے بعد بحالی کا عمل تیز ترہوجائے جس سے متاثرین کی داد رسی بھی ہوگی اور معیشت پر پڑنے والے نقصانات پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔