|

وقتِ اشاعت :   September 12 – 2025

کوئٹہ، – صوبے میں تکنیکی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت (TVET) کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی لاتے ہوئے بلوچستان کی صوبائی کابینہ نے تمام تکنیکی و پیشہ ورانہ اداروں کو بلوچستان ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (بی ٹیوٹا) کے زیر انتظام لانے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں یہ تاریخی فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت ہنر سکھانے والے تمام مراکز کو ایک مرکزی کمان کے تحت لایا جائے گا۔ یہ اقدام سرکاری طور پر انٹیگریشن کے عمل کی تکمیل ہے۔

اب وہ تمام ادارے جو بی ٹیوٹا کے زیر انتظام کام کریں گے، ان میں شامل ہیں:

· لیبر اینڈ مین پاور ٹیکنکل ٹریننگ سنٹرز
· انڈسٹریز ٹریننگ سنٹرز
· سوشل ویلفیئر کے ٹریننگ سنٹرز
· پولی ٹیکنیکل کالجز

اس فیصلے سے صوبے بھر میں پہلی بار پورا TEVT سیکٹر ایک چھتری کے نیچے آگیا ہے۔ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس انضمام سے وسائل کے بہتر استعمال، نصاب میں یکسانی اور عمل میں بہتری آئے گی۔

اس انتظامی اصلاحات کا بنیادی مقصد تربیتی کورسز کے معیار اور ان کی افادیت کو بہتر بنانا ہے۔ اب بی ٹیوٹا یکساں پالیسی کے تحت ایسے تربیتی پروگرام مرتب کرے گی جو عالمی معیار کے مطابق ہوں گے اور مارکیٹ کی موجودہ و مستقبل کی ضروریات پر پورا اتریں گے۔

اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق یہ نوجوان نسل کو مرکوز کرتے ہوئے کی گئی ہے۔ “حتمی مقصد یہ ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تکنیکی تعلیم اور ہنر میسر آسکیں، جس سے نہ صرف ان کی قابلیت میں اضافہ ہوگا بلکہ ملک اور بیرون ملک روزگار کے حصول میں بھی نمایاں آسانی ہوگی”۔