|

وقتِ اشاعت :   September 23 – 2025

کوئٹہ:  پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت علی لہڑی نے کہا ہے کہ حکومت امن اور روزگار لانے کی باتیں کرتی ہے مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہورہا ،حکومتی ارکان اور وزراء ہو کر بھی بے بس ہیں کچھ کر نہیں پار رہے اگر اسطرح حکومتیں چلیں گی تو کل ہم یہاں بیٹھنے کے قابل نہیں ہونگے ۔

یہ بات انہوں نے منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت علی لہڑی نے کہا کہ بلوچستان میں بے روزگاری کا تسلسل ہے چمن سے گوادر تک نوجوان رل رہے ہیں کہ کیا آپ حکومت چلا رہے ہیں

نوجوانوں کا ایوان سے اعتماد اٹھ گیا ہے کہ وہ کچھ نہیں کر پاتے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے تاجر اپنی دکانوں کا کرایہ بھی پورا نہیں کر پارہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پنچر پر بیٹھے لوگ کہتے کہ بلوچستان میں امن اور روزگار لار ہے ہیں یہ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ کوہ مردار کو چیر دیں لیکن عملی کام کچھ نہیں ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ارکان اور وزراء ہو کر بھی بے بس ہیں کچھ کر نہیں پار رہے اگر اسطرح حکومتیں چلیں گی تو کل ہم یہاں بیٹھنے کے قابل نہیں ہونگے ۔

جس طرح معاملات چلائے جارہے ہیں اس سے عوام اور نوجوانوں کا اعتماد حکومت سے اٹھ چکا ہے میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئر مین بلاول بھٹو زرداری سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بلوچستان کے معاملات پر توجہ دیں اور یہاں آکر دیکھیں کہ بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بے روزگاری ، بدامنی عام ہے پہلے جو ٹرانسپورٹر 30گاڑیاں روزانہ چلاتے تھے اب وہ صرف 2گاڑیاں چلا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور پیپلز پارٹی کا بیڑھ غرق کردیا گیا ہے ۔