کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی،قتل وغارت گری،بے روزگاری کے ذمہ دار ریاست وحکومت کے ادارے ہیں بارڈربندکرکے25لاکھ لوگوں کو فاقہ کشی پرمجبورکیاجارہاہے۔
لوگوں کوجبرغائب کرنا،پرامن علاقوں میں بدامنی سوچی سمجھی سازش لگ رہی ہے۔بلوچستان کے عوام،نوجوان مررہے ہیں جبکہ حکومت تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ان خیالات کااظہارانہوں نے کوئٹہ میں مختلف تقاریب سے خطاب وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیاانہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ایوان کے اندروباہر عوامی مسائل کے حل، بارڈربندش،بدامنی،قتل وغارت گری،فوجی آپریشن، نہتے لاتعلق عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف عوام کے حقوق اورامن کیلئے جدوجہد کرتی رہے گی۔
لسبیلہ یونیورسٹی میں پرامن بلوچ طلباء پر پولیس کی فائرنگ اور تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
متعدد طلباء زخمی اور گرفتار ہوئے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ہم ان بلوچ طلباء کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔دالبندین میں ایڈووکیٹ زبیر بلوچ(سابق چیئرمین بی ایس او پجار)کی شہادت دراصل حکومت کی اپنی کارروائی ہیجس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
حکومت بلوچستان نے عوام کو تحفظ دینے کے بجائے گھروں پر چھاپے مار کر وکلاء اور پرامن شہریوں کو خون میں نہلانا اپنا معمول بنا لیا ہے۔
یہ کھلا ظلم، ریاستی جبر اور ماورائے آئین و قانون اقدام ہیجس سے بلوچستان کے عوام میں مزید بے چینی اور اضطراب پھیل رہا ہے۔ہم واضح کرتے ہیں کہ اس قتل کی براہ راست ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ زبیر بلوچ کے قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف فراہم کیا جائے۔