|

وقتِ اشاعت :   October 2 – 2025

غزہ کی طرف امداد لے کر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل نے دھاوا بول دیا اور فلوٹیلا میں موجود پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت متعدد افراد کو اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔

اسرائیلی فوجی کشتیوں نے 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل گلوبل فلوٹیلا کو گھیرے میں لیا اور کئی کشتیوں پر پانی کی توپیں چلا دیں۔

غزہ کے قحط زدہ عوام کے لیے امداد لے جانے والے اس فلوٹیلا پر پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد اور عالمی شہرت یافتہ سماجی رہنما گریٹا تھنبرگ سمیت 500 کے قریب افراد سوار ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کے لیے امداد لے جانے والےگلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کے حملے کے بعد 44 امدادی کشتیوں میں سے اب صرف 4کشتیاں غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔

فلوٹیلا منتظمین کے مطابق اسرائیلی فوجی ایک جہاز میں داخل ہوئے اور جہاز پر سوار تمام ارکان کو حراست میں لے لیا۔

پاک فلسطین فورم کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو قابض اسرائیلی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔

پاک فلسطین فورم نے مشتاق احمد خان اور گلوبل صمود فلوٹیلا پر موجود دیگر افراد کی گرفتاری کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر دھرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم پاکستان شہبازشریف نے اسرائیل کی جانب سے غزہ امداد لیکر جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔