|

وقتِ اشاعت :   October 14 – 2025


کوئٹہ:  غنی بلوچ کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ غنی بلوچ کو لاپتہ ہوئے 4 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے انصاف کے تمام دروازے کھٹکھٹائے مگر بازیابی ممکن نہیں ہوسکی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ غنی بلوچ کو منظر عام پر لایا جائے ان کی بازیابی تک آواز بلند کرتے رہیں گے۔ یہ بات انہوں نے منگل کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ غنی بلوچ کی عدم بازیابی کے باعث خاندان گزشتہ 142 دنوں سے ذہنی کوفت اور بے بسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہے۔

غنی بلوچ 25 مئی 2025 سے جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ ان کی بازیابی کیلئے آئینی دائرہ کار میںرہ کر پولیس اور ملکی اداروں کو تمام ثبوت پیش کئے لیکن ہماری کوئی شنوائی نہیں ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تاریخ ، جگہ اور ٹرانسپورٹ کمپنی سمیت تمام دستیاب ریکارڈ جمع کرائے مگر اس کے باوجود پولیس ٹرانسپورٹ کمپنی اور مسافروں کی تفصیلات اور کیمروں کی مدد سے سی سی ٹ وی فوٹیج منگواتی یا ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا بلا جواز طور پر ہماری درخواست کو خارج کردیا گیا

انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے آئین ہر شہری کی زندگی اور آزادی کے حق کی ضمانت دیتا ہے جس کے مطابق کسی بھی شہری کو گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا جائے اگر اس نے کوئی جرم کیا تو ہے تو آئین و قانون کے مطابق سزا دی جائے اگر بے گناہ ہے تو رہا کیا جائے۔

ہم عدلیہ حکومت اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ غنی بلوچ کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کرکے انہیں منظر عام پر لایا جائے۔