کوئٹہ : سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لینے کیلئے بلوچستان اسمبلی سے مشترکہ قرار داد منظور ہونے کے بعد سے ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے،
جواس قومی وطن کے لوگوں کیلئے تشویشناک ہے،حالانکہ یہ ہماری آئندہ نسلوں کی بقا کی جدوجہد ہے، اپنے وسائل پر اختیار نہ ہونے سے آج ہزاروں لوگ ہمسایہ ملک کے وسائل سے اپنا پیٹ پال رہے ہیں،یہ بات انہوں نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اپنے ایک آڈیو پیغام میں کہی، جو انہوں نے ایک سیاسی جماعت کے رہنما کو بھیجی تھی اور بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کے حوالے سے اراکین اسمبلی نے موقف اختیار کیا کہ انہیں اس بل سے لاعلم رکھا گیابعدازاں سیاسی کارکنوں نے ایک موثر احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ سالوں کی جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والے وسائل پر اختیارکو اس ایکٹ کے تحت کسی اور کے حوالے کیا گیا ہے،
اس موثر عوامی ردعمل کے نتیجے میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لینے کیلئے بلوچستان اسمبلی سے حکومت اور اپوزیشن نے ایک مشترکہ قرار داد پیش کرکے منظور توکرائی تاہم اس کے بعدسے ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے جواس قومی وطن کے لوگوں کیلئے تشویشناک ہے،
میرے دوست کارکن اکثر مجھ سے سوال کررہے ہیں کہ اس پر کیوں خاموشی ہے حالانکہ یہ ہماری آئندہ نسلوں کی جدوجہد ہے اور ہم اپنی آئندہ نسلوں کیلئے آواز اٹھاکر سیاسی مزاحمت کررہے ہیں،انہوں نے کہاکہ آج بلوچستان میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہیں، ایران سے پیٹرول اور ڈیزل لانے والے جسے سمگلنگ کا نام دیا جارہا ہے یہ لوگ دوسرے ملک کے وسائل سے اپنا پیٹ پال رہے ہیں، دن رات خطرہ اور تکلیف میں رہتے ہیں،اگر ہمارے وسائل پر ہمارا اختیار ہو تو یہ لوگ پیٹرول اور ڈیزل لانے کی بجائے اپنے بچوں کو ترقی یافتہ زندگی دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم کو اپنے وسائل پر اختیار حاصل کرنے کی جدوجہد کرنی ہے اگر سب کچھ پراسرار طور پر خاموش رہ کر ٹال دیا جائیگا تو آئندہ نسلوں کو کیا جواب دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ سیندک، ریکودک، گوادر، سوئی کے وسائل فروخت کئے گئے اب پسنی کی بھی بات ہورہی ہے، ڈی ایچ ایکٹ کوصوبے پر مسلط کیا گیا ہے،حالانکہ سیاسی جماعتیں اپنے لوگوں ووٹرزاور قومی وطن کے حقوق کا دفاع کرتے ہیں مگر یہاں سب کچھ اس کے برعکس ہورہاہے۔