|

وقتِ اشاعت :   October 16 – 2025

زندگی میں جو چیز سب سے بڑی حقیقت ہے ،وہ موت ہے،کسی بھی چیز کا انکار کیا جاسکتا ہے،لیکن موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ہر ذی روح کو موت کا مزہ چھکنا ہے ،لیکن کچھ لوگوں کی موت معاشرے کو سوگوار کرتی ہے،کچھ لوگ اپنی زندگیوں میں اپنے لئے لوگوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ایسے لوگوں کاجانا ہر شخص کے لئے ناخوشگوار ہوتا ہے۔
موت بغیر بتائے اپنے وقت پر آہی جاتی ہے۔
چند دن گزرے ہیں کہ مجھے کسی دوست نے اطلاع دی کہ حاصل مہر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی مرتبہ امتحان کی ڈیوٹی کے سلسلے نودز جانا ہوا،مجھ سے میرے میزبانوں نے حاصل مہر کے متعلق بتایا کہ حاصل کیسے شخصیت کے مالک ہیں۔جیسے مہر کے بارے میں بتایا گیا،ویسے ہی میں نے حاصل مہر کوپایا،حاصل واقعتا اپنی مہر کی بدولت لوگوں کو اپنے گرویدہ بناتا تھا،انکی انداز میں ایک انفرادیت تھی،وہ لوگوں کی دل سے عزت کرتا تھا اور اپنے لئے عزت کماتاتھا،وہ مجالس کو اپنی پر اثر گفتگو سے گرماتا تھا۔جس سرکل میں بیٹھتا،لوگوں کو اپنی گفتگو سے متوجہ کرتا تھا،انکی گفتگو کا انداز،منفرد تھا،وہ اکثر اپنے کمزوری لوگوں کوبتاکر محفل کو گل گلگزار بناتا تھا۔مختلف اوقات میں اپنے سرگذشت سناکر لوگوں کو محظوظ کرتا تھا،کچھ واقعات ایسے ہوتے تھے لوگ بار بار ان سے سننے کے لئے اسرار کرتے تھے۔خاصکر ایران میں اپنے اسیری کے دنوں کو جس پیرائے میں بیان کرتے وہ ان کا ہی خاصہ تھا لوگ ہنس ہنس کر خوب انجوائے کرتے تھے۔حاصل مہر نہ صرف لوگوں کو ہنساتاتھا،بلکہ وہ لوگوں کی اپنی بساط مددبھی کرتا تھا۔کیچ کے ڈاکٹر سرکل میں اسکی اہمیت تھی،ڈاکٹر انکی باتیں سنتے تھے،وہ بہت سارے لوگوں کی علاج کے سلسلے میں ڈاکٹروں سے مدد دلواتاتھا،وہ کسی بھی وقت اپنے خدمات کے لئے حاضر ہوتا تھا۔وہ چھوٹی چھوٹی واقعات اس انداز میں بیان کرتا محفل گرم ہوجاتا تھا۔کیچ کے ڈاکٹر سرکل انہیں کئی مرتبہ بیرون ملک اپنے ساتھ لیکر جاتے تھے۔وہ ایک خدمت گزار اور مخلص شخصیت کا مالک تھا،ناصر آباد میں انکا اپنا دوستوں کا سرکل ہوتا تھا۔
انسان بغیر خامی کہ نہیں ہوسکتا،حاصل میں انسانی خامیاں ہوتی ہونگی،انسان فرشتہ نہیں،اس میں کچھ نہ کچھ خامیاں ہوتی ہیں، حاصل بھی انسان تھا،دوسرے انسانوں کی طرح اسمیں انسانی خامیا ں تھی،لیکن ان خامیوں کو اپنی خوبیوں سے مہر نے دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا تھا۔
مکران میں ہر طبقہ فکر سے مہر کے اچھے اور مثبت تعلاقات تھے،جس سرکل کی جو تقاضے ہوتے تھے،مہر ان تقاضوں کو پورا کرتے تھے،حاصل کے طبعیت میں ملنساری تھی،لوگ اس کے سحر میں اسکی مہر کی وجہ سے گرفتار ہوتے تھے،وہ ہر محفل کی جان ہوتے تھے۔
ان کا انداز نرالا اور منفرد تھا،وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کس انفرادی فرد کو کیسے ڈھیل کیا جائے۔
حاصل لوگوں کو عزت دیکر عزت کماتے تھے،ان کے ہاتھ جو بھی کام ہوسکتا تھا بے دریغ بغیر جون چرا کر گزرتے تھے۔ان کو کسی بھی سرکل کو ہینڈل کرنا اچھی طرح آتا تھا۔ حاصل نہ ادیب تھے ناشاعر،نہ کوئی سیاستدان،وہ ایک ٹیچر تھے،ایک ایسا ٹیچر جو عام اسکول کاپڑاھا ہوا ہو،لیکن اس میں بہت ساری ایسی خوبیاں تھی کہ بڑے بڑے لوگ ان کو جانتے تھے،اور اپنے اپنے سرکل میں بلاتے تھے۔
حاصل شاہد وقت سے پہلے ہم سب کو چھوڑ کر کئی دور چلے گئے،لیکن لوگوں کے دلوں میں اپنی ایک جگہ بناکر چلے گئے۔اللہ پاک ان کی حق مغفرت کرے،اور انکی لواحقین کو صبر جمیل دے۔
کبھی کبھی مجھے گمان گزرتاہے کہ حاصل بہت دور آسمانوں پر کسی محفل کو سجا کر بیٹھے ہیں،ان کی گفتگو جاری وساری ہوگی،اور لوگ محظوظ ہورہے ہونگے۔