پاکستان کے مخلتف شہروں میں ٹماٹر کی قیمت میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں ٹماٹر کی قیمت 500 روپے سے 700 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
کراچی سبزی منڈی اور اسلام آباد سبزی منڈی میں کام کرنے والے تاجروں کے مطابق، گذشتہ رات کراچی میں ہول سیل میں ٹماٹر کی قیمت 550 روپے فی کلو تھی دوسری جانب اسلام آباد سبزی منڈی میں گزشتہ رات ٹماٹر کی قیمت 500 روپے فی کلو تھی۔
کراچی اور اسلام آباد میں ٹماٹر کی ریٹیل قیمت 600 سے 700 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
سبزیوں اور پھلوں کے تاجروں کے مطابق ملک میں ٹماٹر کی قیمت میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں افغانستان اور ایران سے ٹماٹر کی سپلائی میں رکاوٹ، ملک میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ٹماٹر کی فصل کو پہنچنے والے نقصانات کے علاوہ بلوچستان میں ٹماٹر کی فصل کا کم کاشت ہونا بھی شامل ہے۔
پاکستان کے ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ ہفتے کے اختتام تک ٹماٹر کی قیمت میں اضافے کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے مختلف حصوں میں ٹماٹر کی قیمت 350 روپے سے لے کر 450 روپے فی کلو تک رہی تاہم تاجروں کے مطابق ریٹیل قیمت 500 روپے فی کلو سے اوپر چلی گئی تھی۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے دوسری سبزیوں کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور فی الحال ان کی قیمت میں کمی مشکل ہے۔
کراچی ہول سیل فریش فروٹس مرچنٹس ایسوی ایشن کے چیئرمین زاہد اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ کراچی میں افغانستان سے ٹماٹر کی سپلائی کافی تعداد میں ہو رہی تھی جو چمن بارڈر کے ذریعے کراچی آتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ دراصل میں یہ ایرانی ٹماٹر ہوتے ہیں جنھیں افغانستان کے تاجر چمن بارڈر سے پاکستان برآمد کرتے ہیں۔
زاہد اعوان نے بتایا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بعد سے چمن بارڈر سے ان کی سپلائی رکی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ٹماٹر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے سیب، انار اور انگور بھی پاکستان درآمد ہوتا ہے اور اس وقت سیب اور انار کی قیمت بھی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔