|

وقتِ اشاعت :   October 21 – 2025

کوئٹہ :  امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ دہشت گردی کے متعدد واقعات ہونے کے بعد بھی کوئی افسر معطل نہیں کیا گیا۔ہماری زندگی کاصرف کام فاتحہ خوانی اورمذمت کرنارہ گیاہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں وفود سے ملاقات و اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے سوال کیاانڈیاپاکستان کادشمن ہے مگردھماکے ودہشت گردی صرف بلوچستان میں کیوں کرتاہے۔

امن وامان بحال نہ کرنے کے ذمہ دار اسی ارب روپے سالانہ بجٹ لینے والے ہیں۔بلوچستان کے پرامن علاقوں پنجگورزیارت دکی سمیت ہرطرف حالات خراب حکومت وسیکورٹی فورسزتماشادیکھ رہے ہیں عوام حیران وپریشان ہیں کہ یہ سب کچھ کب تک چلیگا۔

جب بارڈرزبند کیے گیے ہیں توپھردہشت گردکہاں سے آرہے ہیں۔بلوچستان میں ہر طرح کی دہشت گردی موجود ہے۔

گوادر میں مسلح لوگ فی گاڑی15ہزار روپے بھتہ لے رہے ہیں۔انتظامیہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارے لوگ ہیں دہشت گردنہیں۔

امن وامان پر فنڈز خرچ ہوتے ہیں،میں کس کے ہاتھ میں اپنا خون تلاش کروں۔سالانہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود صوبے میں دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی۔بلوچستان میں امن کہیں دکھائی نہیں دیتا۔دہشت گردی کے متعدد واقعات ہونے کے بعد بھی کوئی افسرمعطل نہیں کیا گیا۔80ارب روپے امن و امان کے لیے دینے والوں سے پوچھنا چاہیے۔

شاہراہوں پر چیک پوسٹوں کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا۔