|

وقتِ اشاعت :   October 24 – 2025

تربت:بلوچ وومن فورم کی مرکزی آرگنائزر ڈاکٹر شلی بلوچ نے بتایا ہے کہ ان کا نام اور چند دیگر کارکنان کے نام حکومت بلوچستان کی جانب سے فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کے نوٹیفکیشن کے بعد میں آج ذاتی طور پر سی ٹی ڈی تھانہ تربت میں پیش ہوئی ہوں،

پیشی کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس اقدام کو سیاسی سرگرمیوں کو دبانے اور بنیادی آزادیوں پر قدغن قرار دیا، ڈاکٹر شلی بلوچ نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کا سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے استعمال کیا جانا تشویش ناک ہے اور یہ کارروائی اظہارِ رائے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے رہنے جیسی قانونی اور پرامن سرگرمیوں کو نشانہ بنا رہی ہے،

انہوں نے میڈیا کے سامنے واضح کیا کہ پہلے بھی ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی جسے انہوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا اور اب فورتھ شیڈول کا اطلاق ان کے خلاف ایک غیر قانونی ہتھکنڈے کے طور پر کیا جا رہا ہے، ڈاکٹر شلی نے کہا کہ حکومت نے ان کی اور اْن جیسے دیگر کارکنوں کی آزادانہ نقل وحمل کی جگہیں تنگ کر دی ہیں

اور اب وہ اپنی زمین پر گھومنے پھرنے کے لیے این او سی کی ضرورت محسوس کرنے لگے ہیں انہوں نے اعتراف کیا کہ مسلسل دھمکیوں اور گھر پر چھاپوں سمیت خاندان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور کبھی بھی ان کے خلاف گرفتاری کا اندیشہ موجود رہتا ہے

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ قانون کے اندر رہ کر اپنے اور دوسروں کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہیں گی اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اس صورتحال کا مقابلہ کریں گی،ڈاکٹر شلی بلوچ نے اپنے خطاب میں مشرف کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پرویز مشرف کی آمریت اْن کے اکابرین کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکی تو موجودہ طریقے بھی ان کے سیاسی راستے کو نہیں روک سکتے

اور اس طرح کے اقدامات پر وہ کبھی سر نہیں جھکائیں گی بلکہ عدالتوں اور آئینی راستوں کے ذریعے اپنا مقدمہ لڑیں گی، ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اور سرگرمیاں کبھی غیرقانونی نہیں رہیں بلکہ ہمیشہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر عوامی حقوق اور لاپتہ افراد کے مسائل کو اٹھایا گیا ہے، ڈاکٹر شلی بلوچ اور ان کی تنظیم نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ نوٹیفکیشن کو قانونی طور پر چیلنج کریں گے اور اس معاملے کو عدالتی، سیاسی اور سماجی سطح پر اٹھائیں گے۔