کوئٹہ: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنمائوں دائود شاہ کاکڑ ، ساجد ترین ایڈووکیٹ اور عبدالقہار خان ودان نے کہا ہے کہ 7 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام ہونے والے جلسے کے لئے عدالت عالیہ کی جانب سے حکومت کوتین مقامات میں سے ایک مقا م پر جلسے کی اجازت دینے کے احکامات پر کوئی عملدرآمد نہیں ہورہا جس کی وجہ سے ہمیں تشویش لاحق ہے ہمارا جلسہ ضرور ہوگا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔
ہم سیاسی اور جمہوری لوگ ہیں ہمیں جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کوکوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، کبیر افغان، ذولیخہ مندوخیل ، نور خان خلجی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کہتے ہیں کہ صوبہ میں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے جب بھی تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام کوئی جلسہ، احتجاج اور ریلی نکالی جاتی ہے تو انہیں روکا جاتا ہے آئین و قانون کے مطابق ہر شہری کو احتجاج کا حق حاصل ہے زور زبردستی سے قائم ہونے والی فارم 47 کی حکومت ڈکٹیشن پر چل رہی ہے ۔
جلسہ کے انعقاد کیلئے تمام قانونی تقاضے پورے کئے عدالت عالیہ سے رجوع کیا اور حکومت کو جگہ مختص کرنے کا حکم دیا گیا لیکن 6 روز گزرنے کے باوجود تا حال کوئی عملدرآمد نہیں ہورہاہے۔ حکومت کی حیلے بہانوں اور اوچھے ہتھکنڈوں سے کسی صورت مرعوب نہیں ہوں گے 7 نومبر کو جلسہ ہر صورت کیا جائے گا۔اور ماہ نومبر سے ملک گیر تحریک کا آغاز ہونے جارہا ہے
ہمیں حکومتی سیکورٹی کی ضرورت نہیں ہم اپنا تحفظ خود کریں گے ۔
ملک میں 70 فیصد ووٹ پی ٹی آئی کوپڑے لیکن فارم 47 کے ذریعے مسترد شدہ لوگوں کو زر اور زور کے ذریعے مسلط کیا گیا وہ عوام کی خدمت ، بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کے حل کی بجائے اپنے پیسے نکال رہے ہیں کرپٹ ٹولہ پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالا جارہا ہے انہیں کرپشن کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو کالونی کے طور پر چلایا جارہا ہے مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو جعلی اسمبلیوں کے ذریعے مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔پنجاب سے جو وسائل نکلتے ہیں وہ اس کا مالک ہے دوسری اقوام بھی اپنے وسائل کے مالک ہیں ہم اپنے وسائل کوڑیوں کے دام فروخت نہیں ہونے دیں گے۔ سردار اختر جان مینگل پر بلا جواز سفری پابندی لگائی گئی ہے
عدالتی احکامات کے باوجود بیرون ملک سفر کرنے نہیں دیا جارہا ہے۔
عمران خان ، علی وزیر اور ماہ رنگ سمیت دیگر کو قید میں رکھا گیا ہے۔
عمران خان ایک سال سے زائد عرصے سے پابند سلاسل ہے ۔ جمہوری عمل سے ڈرنے والے آئین پر عملدرآمد سے گریزاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی تذلیل قابل مذمت ہے اور اس کی آڑ میں مقامی لوگوں کو بھی تنگ کرکے پیسے لئے جارہے ہیں ۔ سندھ اور پنجاب میں پشتونوں کو نکالا جارہا ہے۔ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنا حکومت کی غیر سنجیدگی ہے۔