اسلام آباد : پاکستان اور ایران کے مابین بارڈر پر تجارتی امور میں درپیش مسائل کے حل کے لئے دونوں ممالک کے افسران پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو لاجسٹک سمیت مختلف معاملات پر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی
جس کے نتیجے میں بالخصوص ایران سے آنے والے تجارتی ٹرکوں کی مشکلات کا حل ممکن ہوگا۔ اس امر کا اظہار پاکستان کے دورے پر آئی ایران کی وزیر برائے روڈ ز و شہری ترقی فرزانہ صادق نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات میں کیا
جس کے بعد ایرانی وزیر کا وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی اور وزیر تجارت جام کمال خان سے مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں پاک ایران امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے معزز مہمان فرزانہ صادق کو یقین دلایا کہ ایران سے آنے والے تجارتی ٹرکوں کی جلد کلئیرنس یقینی بنائی جائے گی جس کے لئے انہوں نے موقع پر ہی این ایل سی، ایف بی آر اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایات دیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران کو اپنے تجارتی راستوں سے چین و دیگر ممالک میں تجارت کی پیشکش کرتا ہے،پاکستان علاقائی تجارت اور باہمی رابطوں کے لئے پْر عزم ہے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ایران اور پاکستان برادر اسلامی ملک ایک عرصے کے بعد دوبارہ نزدیک ہو رہے ہیں جس کے اس خطے پر مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔
اس مشترکہ اجلاس میں وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ایران سے ستمبر میں طے پانے والے معاہدے پر تیزی سے عملدرآمد کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال دسمبر میں اسلام آباد۔تہران۔ استنبول ٹرین منصوبے کا از سر نو جائزہ لیں گے۔
وزیر تجارت جام کمال خان نے ایران سے تجارتی حجم کو 10ارب ڈالر تک بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ایران کی وزیر فرزانہ صادق نے وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا اس مختصر وقت میں اس اجلاس کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران چاہ بہار اور گوادر پورٹ سے بحری امور میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے ایرانی صدر کی پاکستان سے معاملات کی بہتری میں دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ریجنل ٹرانسپورٹ منسٹرز کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے جس سے شریک ممالک کے لئے سود مند اثرات مرتب ہوں گے۔