مردان ،مالاکنڈ: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیرمین خوشحال خان کاکڑ اور شریک چیئرمین مختارخان یوسفزی نے مالاکنڈ طوطہ کان اور مردان کے ملو ڈہیری اور کلی سرتاج اور ہاتیان میں اولسی اور عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو کامیاب عوامی اجتماعات منعقد کرنے پر مبارکباد پیش کی
اور استقبالیہ تقاریب میں عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر وطن پال جمہوری پارٹیوں کے رہنماؤں اور علاقے کے نمائندہ سماجی شخصیات کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا رابطہ عوام مہم ایسے حالات میں جاری ہے کہ پشتون افغان ملت کو اپنے تاریخ کے بدترین صورتحال کا سامنا ہے ایک طرف گزشتہ چار دہائیوں کی مسلط کردہ سامراجی مداخلت جارحیت کی جنگ نے محکوم پشتونخوا وطن اور آزاد افغانستان کے کروڑوں پشتونوں اپنے علاقوں سے بیدخل کرنے پر مجبور کرکے انتہای تباہ کن مشکلات و مصائب کا شکار بنایا،
تباہ کن استعماری جنگوں اور ریاستی دہشتگردی نے پشتون افغان عوام کے تمام معاشی اور روزگار کے ذرائع تباہ کردئیے ،دوسری طرف پشتونخوا وطن ریاستی دہشت گردی کے اڈوں میں تبدیل کرکے ہمارے عوام کی جان ومال اور عزت و ناموس سنگین خطرات لاحق کئے ،انہوں نے کہا کہ ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ پشتونخوا وطن کی قومی سیاسی اور جمہوری پارٹیوں نے اس بدترین صورتحال میں بھی عوام کو بے یارو مددگار نہیں چھوڑا ہے ہمارے وطن کے عوام کو اس اذیت ناک صورتحال سے بھی نجات دلانا ایک پارٹی کی بس کی بات نہیں ،ایسے حالات میں تمام وطن پال جمہوری سیاسی پارٹیوں کی مشترکہ قومی محاذ ایک تاریخی ضرورت بن گئی ہے ،
انہوں نے قومی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ قومی محاذ قائم کرنے میں اپنا کردار قائم کریں ،
کیونکہ پاکستان ملک گیر بنیادوں پر قائم پارٹیاں گزشتہ 78 سالوں کے دراں پشتونوں کی قومی اور وطنی مفادات کی تحفظ میں ناکام رھی ہیں بلکہ وفاقی سطح پر پنجاب کے اکثریتی غلبے اور بالادستی نے قومی پارٹیوں کو پشتون مفادات کو قربان کرنے پر مجبور کیا ہے ،انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں پشتون قومی وجود کا بقاء کو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں ،پشتونخوا وطن کے بیش بہا قدرتی ذخائر ،دریاں بجلی اور نایاب معدنیات خزانوں پر استعماری قوتوں کا کنٹرول قائم ھوا ہے اور پشتون عوام کو قومی حق حاکمیت اور قدرتی وسائل کے حق ملکیت یکسر محروم ہے ،
انہوں نے کہا کہ پشتونخوا وطن کی ملی وحدت اور ملی شناخت کی بحالی بولان تا چترال بشمول اٹک و میانوالی متحدہ قومی وحدت یعنی صوبہ پشتونخوا کا قیام اور تمام قدرتی وسائل اور ھر قسم کی قیمیتی معدنیات پر اپنے عوام کا حق ملکیت قائم کرنا اور اپنے غیور ملت کی قومی برابری اور جہموری اقتدار کا قیام ہم سب کا قومی اور دینی فریضہ ہے ،انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے خاتمے اور آئین کی پامالی کے بعد اب جمہوری پاکستان کا وجود صرف ایسے نئے عمرانی معائدے سے قائم رہ سکتا ہے
جس کے تحت قومی اسمبلی میں ہر قومی وحدت کو وفاقی وحدت برابر نمائندگی حاصل اور چار محکموں کے علاوہ تمام اختیارات قوموں کو حاصل ہو ،اجتماعات سے اکبر سیال ،اقبال خان ،علی حیدر ،علی گوھر ،رضا محمد رضا ،خورشید کاکاجی ،عثمان شاہ مومند نے بھی خطاب کیا