سوراب : شہید سکندر آباد سوراب لیویز فورس کے آفیسران،جوانوں، قبائلی عمائدین اور مختلف مکاتب فکر کے افراد نے پولیس میں انضمام کے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی،
مظاہرین نے اپنے تحفظات ریکارڈ کرواتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لیویز کا تاریخی کردار اور شناخت ختم کرنے کی کسی بھی کوشش کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا،ریلی کے شرکا ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر واضح الفاظ میں درج تھا لیویز فورس ہماری پہچان ہے،
انکی انضمام نامنظور،لیویز کو پولیس میں ضم کرنا استحصال ہے،احتجاجی مظاہرے میں شریک شرکا نے کہا کہ لیویز فورس ایک مقامی، بااعتماد اور مثر امن فورس ہے، جس نے ہمیشہ قبائلی اور دیہی علاقوں میں اپنی فرض شناسی اور قربانیوں سے امن قائم رکھا۔
پولیس سسٹم میں ضم کر کے نہ صرف لیویز کے کردار کو مسخ کیا جا رہا ہے بلکہ مقامی روایتی نظام پر بھی ضرب لگائی جا رہی ہے،انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید بڑھایا جائے گا
اور قانونی راستہ بھی اختیار کیا جائے گا ۔
دریں اثناء آواران میں لیویز فورس کے اہلکاروں کی جانب سے پولیس میں مجوزہ انضمام کے خلاف ایک پْرامن احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میںسینکڑوں لیویز جوانوں نے شرکت کی۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر “لیویز ہمارا فخر ہے”، “انضمام نامنظور” اور “لیویز فورس کو برقرار رکھا جائے” جیسے نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے پرامن انداز میں شہر کے مختلف راستوں سے گزر کر اپنی مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
مقررین نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیویز فورس صدیوں سے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا فیصلہ علاقے کے عوام اور اہلکاروں کی مرضی کے خلاف ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ لیویز فورس کے موجودہ نظام کو برقرار رکھا جائے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ریلی پْرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی۔