کوئٹہ : بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا،
جس میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات اور محکمہ اطلاعات سے متعلق آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں کمیٹی کے اراکین ولی محمد نورزئی، غلام دستگیر بادینی، محمد خان لہڑی, صفیہ بی بی, محمد ایاز مندوخیل سیکرٹری سائس اینڈ ٹیکنا لوجی ، عمران خان سیکرٹری انفارمیشن، ڈی جی آڈٹ بلوچستان شجاع علی، ڈی آئی جی جیل خانہ جات ضیاء ترین، ایڈیشنل سیکرٹیری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون سعید اقبال، ڈی جی پی آر بلوچستان محمد نور کھیتران ، چیف اکائونٹس آفیسر پی اے سی سید محمد ادریس اور دیگر سرکاری آفیسرز نے شرکت کی۔
اجلاس کے پہلے مرحلے میں کوئٹہ سیف سٹی پراجیکٹ سے متعلق آڈٹ پیراز پر تفصیلی غور کیا گیا، جس میں 2.280 بلین روپے کے غیر قانونی ٹھیکے کے اجرا پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔پراجیکٹ ایس سی او (Special Communication Organization) کو دیا گیا، جبکہ این آر ٹی سی (NRTC) نے تکنیکی و مالی بنیادوں پر زیادہ نمبر حاصل کیے تھے (85.8 بمقابلہ 76.8)۔
کمیٹی نے اس عمل کو بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ رولز (BPPRs) 2014 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
ڈرائنگ رومز کے ٹھیکہ داری نظام کو ختم کر نا ہوگا۔ پروجیکٹ کی رقم میں بار بار اضافہ کیا گیا ،کا بینہ سے منظوری کی بجائے بیورو کریسی نے صرف وزیر اعلیی سے منظوری لی جو کہ غلط ہے رولز اس کی اجازت نہیں دیتی۔ قواٰئد کو ردی کو ٹوکری مین ڈال دی گئی۔
پی اے سی۔ چیئرمین PAC اصغر علی ترین نے کہا کہ 800 کیمروں میں سے 600 غیر فعال ہیں، جس کے باعث شہر میں جرائم کی روک تھام ممکن نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ 9 نو ارب روپے کے اخراجات کے باوجود اگر عوام کو تحفظ نہیں مل سکا تو اس کا مطلب ہے کہ منصوبے میں غیر مؤثر منصوبہ بندی اور مالی بدانتظامی ہوئی ہے۔اور صرف ٹھیکہ داروں کو مالی فوائد دی گئی ہے۔جب کوئٹہ کے شہری مصور نامی معصوم بچے کے اغوا کا واقعہ پیش آیا تو سیف سٹی کے زیادہ تر کیمرے غیر فعال تھے۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ خطیر بجٹ کے باوجود منصوبہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ PAC خود منصوبے کا معائنہ کریں گے۔ پی اے سی نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ایک ماہ کے اندر انکوائری کرنے کا حکم دیا۔ انکوائری بروقت اور تسلی بخش نہ ہوئی تو کیس کو مزید تفتیش کے لئے نیب کی حوالہ کی جائیگی۔مزید برآں، کمیٹی نے 230.335 ملین روپے کی غیر قانونی ایڈوانس ادائیگی پر سخت نوٹس لیتے ہوئے 15 دن کے اندر مکمل ریکوری یقینی بنانے کی ہدایت دی۔اجلاس میں حکومت کے واجب الادا ٹیکسوں کی کم یا غیر کٹوتی کے باعث 11.327 ملین روپے کے نقصانات سے متعلق آڈٹ پیرا پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ آڈٹ پیراز کو ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) میں پیش کیے بغیر براہ راست PAC کو ارسال کیا گیا، جو مقررہ ضوابط کے خلاف ہے۔ ڈپارٹمنٹس ڈی اے سی لازمی کریں۔کمیٹی نے متعلقہ محکمہ اور ڈی جی آڈٹ کو ہدایت دی کہ فوری طور پر اس معاملے کو ایک ہفتے میں سلجھائیں اور رپورٹ پی اے سی کو پیش کریں۔اجلاس کے دوران انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات نے بتایا کہ محکمے کو مرمت، دیکھ بھال اور بحالی کے لیے ناکافی فنڈز دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ٹیوب ویل خراب ہو جائے تو اس کی مرمت بھی مشکل سے ہو جاتی ہے۔چیئرمین PAC نے ہدایت دی کہ جیلوں میں بنیادی سہولیات کی بہتری، صاف پانی، ادویات، بحالی اور حفظانِ صحت کے انتظامات فوری طور ہر کریں۔ پی اے سی ان سہو لیات اور فنڈز کے لیے حکومت کو سفارش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جیل ملازمین کی تنخواہیں اور الاؤنسز دیگر محکموں کے برابر کیے جائیں۔کمیٹی اراکین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں جیل ٹریننگ سینٹر قائم کیا جائے اور جیل ملازمین کو فورس کا درجہ دیا جائے۔اجلاس کے تیسرے مرحلے میں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (DGPR) سے متعلق آڈٹ پیراز پر غور کیا گیا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمے نے 2018 تا 2021 کے دوران اشتہارات پر 424.754 ملین روپے خرچ کیے مگر اس دوران BSTS ٹیکس کی 56.518 ملین روپے کی کٹوتی نہیں کی گئی۔چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ ایک مالی طور پر کمزور صوبے میں اشتہارات پر اتنی بڑی رقم خرچ کرنا افسوسناک ہے۔ کمیٹی نے محکمہ اطلاعات کو ہدایت دی کہ تمام اخراجات کا ازسرنو جائزہ لے کر ٹیکس کی ریکوری یقینی بنائے اور رپورٹ PAC کو ارسال کرے۔
اسی طرح، 23.29 ملین روپے کی غیر مجاز بینک کھاتوں میں رکھی گئی رقم کے حوالے سے بھی کمیٹی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ 15 دن کے اندر خصوصی اجلاس بلا کر معاملے کو نمٹایا جائے۔
اور پی اے سی کو رپورٹ پیش کیا جائے۔چیئرمین اصغر علی ترین اور ممبران مجلس نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی صوبے میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور احتساب کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بے ضابطگیوں، کمزور مالیاتی کنٹرول اور ناقص گورننس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تمام محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ کمیٹی کی سفارشات پر مقررہ مدت میں عملدرآمد کو یقینی بنائیں