|

وقتِ اشاعت :   October 30 – 2025

کوئٹہ: سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پر نظر ثانی کیلئے اسمبلی سے قرار داد منظور ہونے کے بعد سے چھائی پراسرار خاموشی پر تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے کہاہے کہ مائنزاینڈمنرل ایکٹ کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی قیادت اوران کے پارلیمانی لیڈرز کو عنقریب خطوط لکھیں گے،

بلوچستان ہماری ننگ وناموس عزت وقار کی پناہ گاہ ہے،

سیاسی جماعتیں آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس طلب کریںیا ہمیںموقع دیں ہم آل پارٹیز کانفرنس طلب کریں تاکہ صوبے کے اجتماعی قومی حقوق کادفاع کیا جائے، یہ بات انہوںنے گزشتہ روز سراوان ہائوس میں اپنے ہم خیال نظریاتی و فکری ساتھیوں کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سمیت بلوچستان کے اجتماعی قومی امور پر طویل مشاورت اور تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ سیاسی جماعتیںاپنے آج کوآئندہ کل کی خوشحالی کیلئے قربان کرتی ہیں

یہ سرزمین ہماری ننگ وناموس عزت وقار کی پناہ گاہ ہے،

انہوں نے کہاکہ سیندک ریکوڈک کیخلاف ہم نے سیاسی مزاحمت کرکے آئندہ نسلوں کی جنگ لڑی انہوںنے مطالبہ کیاکہ ریکوڈک معاہدے کومنظرعام پر لایاجائے،نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مائنزاینڈ منرل ایکٹ پرسیاسی جماعتوںکی پراسرار خاموشی پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے ہر فرد ، ذی شعورسیاسی کارکن کومائنزاینڈ منرل ایکٹ کے تحت آئندہ نسلوں کے وسائل کو نیلام کرنے پر تشویش ہے

، ہم نے کوشش کرکے بلوچستان اسمبلی سے منظور ہونے والے ایکٹ کو نظرثانی کیلئے دوبارہ اسمبلی تک پہنچایاتاکہ بلوچستان کااختیاراورحقوق کوپرامن سیاسی جدوجہد کے ذریعے حاصل کریں، انہوںنے کہاکہ خان قلات میراحمدیارخان اورقائداعظم محمدعلی جناح کے درمیان1948 میں ہونے والے معاہدے کے تحت اس سرزمین کے لوگوںکوان کے وسائل اورسیاست پراختیارحاصل ہے جبکہ 1940ء کی قرارداد میں قومی وحدتوں کو مکمل اختیار دیا گیا ہے ہم اس اختیارکیلئے سیاسی عمل کوآگے بڑھارہے ہیںاورآئندہ نسلوںکی اجتماعی قومی بقاء کی سیاسی جنگ لڑرہے ہیں، انہوںنے کہاکہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کی قیادت اوران کے پارلیمانی لیڈرز کو عنقریب ایک خط لکھیںگے جس میںانہیں نہ صرف مادر وطن کے لوگوں کی تشویش سے آگاہ کیاجائیگا

بلکہ ان سے مطالبہ کرینگے کہ آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے وہ ہنگامی بنیادوں پر آل پارٹیزطلب کریںیا ہمیںموقع دیں کہ ہم آل پارٹیز کانفرنس طلب کریں تاکہ صوبے کے اجتماعی قومی حقوق کادفاع کیا جاسکے۔