کوئٹہ : ڈائر یکٹر نیب بلوچستان عبدالحفیظ صدیقی نے ملک میں کرپٹ عناصر کی ریشہ دوانیوں کی سخت الفاط میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے کئی مکروہ چہرے ہیں جن کے تدارک کے لئے قومی احتساب بیورو پوری تندہی سے بر سرپیکار ہے۔ کہیں شعور و آگاہی کی ڈھال سے اس عفریت سے لڑ اجا رہا ہے تو کہیں سی بی ایس کا قیام عمل میں لا کر اصلاحی معاشرہ تشکیل دیا جارہا ہے تاہم جیل کی سلاخیں اور قانون کا کٹہرا بد عنوان عناصر کا آخری حل ہے ، Revised پی سی ون کے نام پر قومی وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا تا ہے، سیکرٹری خزانہ سمیت دیگر بڑے لوگوں کی گرفتاری قومی وسائل کی چوری میں ملوث تمام کرپٹ عناصر کے لئے کھلا پیغام ہے کہ اب اُنکے دن گنے جا چکے ہیں، وہ اس گھناونے جرم سے باز آجائیں یا پھر قانون کے کوڑے کے لئے کمر کس لیں، مجرم صرف ایک مجر م ہے چاہے وہ رکن پارلیمنٹ ہو بیوروکریٹ ہو یا ایک عام کلرک ، عوام الناس کے لئے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کی پی سی ون کے مطابق تکمیل اولین ترجیح ہے ، نیب کی بدولت بلوچستا ن بھر کے لئے صاف پانی کے ایک بڑے منصوبے ، گودار ڈی سیلی نیشن پلانٹ ، کڈنی سینٹر کی فعالیت ، سریاب فلائی اوور منصوبے کی بر وقت تکمیل سے بلوچستان کے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ بات انھوں نے کریکٹر بلڈنگ سوسائیٹیز کے قیام کے حوالے سے بلوچستان یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سپیکر بلوچستان اسمبلی راحیلہ درانی ، وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی جاوید اقبال بھی اس موقع پر موجود تھے۔ بلوچستان بھر کے اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز کے سینکڑوں سی بی ایس ممبران نے تقریب میں خصوصی شرکت کی۔ڈائریکٹر نیب بلوچستان نے کہا سی بی ایس بڑے مقصد کے حصول کا پہلا زینہ ہے جس میں کامیابی کے بعد ہمارے معاشرے کو وہ مضبوط اورمستحکم عمارت ملے گی۔ جس کے ستون سچائی، ایمانداری، کھرے اصول پر عبارت ہونگے جبکہ کامیابی و کامرانی کی انتہا ا سکی چھت ہو گی۔انھوں نے کہا کرپشن کے کئی مکروہ چہرے ہیں جن کے تدارک کے لئے قومی احتساب بیورو پوری تندہی سے بر سرپیکار ہے۔ کہیں شعور و آگاہی کی ڈھال سے اس عفریت سے لڑ اجا رہا ہے تو کہیں سی بی ایس کا قیام عمل میں لا کر اصلاحی معاشرہ تشکیل دیا جارہا ہے۔ نیب کے نزدیک جیل کی سلاخیں اور قانون کا کٹہرا آخری حل ہے صرف ان عناصر کے لئے جن کا دین ودھرم پیسہ او ر زندگی کا مقصد لالچ و بد دیانتی ہے۔انھوں نے کہا بلوچستان کی پسماندگی کی جہاں دیگر وجوہات ہیں وہیں ایک عام شخص تک ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات کا نہ پہنچنابھی ہے ۔ ترقیاتی منصوبے چاہے وہ تعلیمی شعبے کی بہتری کیلئے شروع کئے گئے ہوں، صحت عامہ سے متعلق ہوں ، تعمیرات و موا صلات کے شعبے سے ہوں ایک چیز جو ان سب میں مشترک ہے وہ چند مفاد پرستوں کی بد دیانتی اور ذاتی مفاد ہے۔