|

وقتِ اشاعت :   October 30 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس کمیٹی روم اسمبلی میں چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن سے متعلق آڈٹ پیراز زیر غور آئے۔اجلاس میں کمیٹی نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کی جانب سے صوبے میں ریونیو بڑھانے کے لیے اختیار کردہ حکمتِ عملی اور ذرائع کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد محصولات کی وصولی صوبوں کے لیے ایک بڑی ترجیح بن چکی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور انسانی وسائل کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری ممکن بنائی جا سکے۔

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن بلوچستان، جو کہ صوبے کا تیسرا بڑا ریونیو پیدا کرنے والا ادارہ ہے، گاڑیوں کے ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس، ہوٹل ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور دیگر محصولات کی وصولی کے ذمہ دار ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ محکمے نے آمدنی بڑھانے کے لیے جامع حکمتِ عملی یا واضح اہداف مقرر نہیں کیے،

جس کی وجہ سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور محصولات کی شرح میں بہتری ممکن نہ ہو سکی۔کمیٹی نے محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کو ہدایت دی کہ وہ اپنے ٹیکس جمع کرنے والے عملے کے لیے تربیتی پروگرامز اور آگاہی مہمات کا اہتمام کرے تاکہ عوام میں ٹیکس ادائیگی کے رجحان کو فروغ دیا جا سکے۔ چیئرمین نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے بلوچستان کو دیگر صوبوں کے برابر لانا وقت کی ضرورت ہے۔

حاجی محمد خان لہڑی نے کہا کسی محکمہ میں کرپشن کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ محکمہ ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن میں بے قائد گی کی اگر پی اے سی چاہے تو چیف سیکرٹری سے انکوائری کرواکر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔

اجلاس میں موٹر گاڑیوں کی کم رجسٹریشن کے مسئلے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبے میں عوام کی جانب سے بلوچستان میں گاڑیاں رجسٹر نہ کرانے کی وجوہات میں آن لائن تصدیق کا فقدان، دستاویزات کی غیر شفافیت، اور دیگر صوبوں میں بہتر سہولیات شامل ہیں۔ دستگیر بادینی نے اس صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے محکمے کو گاڑیوں کی رجسٹریشن کا عمل آسان اور شفاف بنانے کی ہدایت دی۔اجلاس میں پروفیشنل ٹیکس کی کم وصولی (31.640 ملین روپے) پر بھی غور کیا گیا۔

کمیٹی نے ہدایت دی کہ محکمے کو صرف سرکاری ملازمین سے نہیں بلکہ نجی شعبے، ٹھیکیداروں، وکلاء￿ ، معالجین، اور دیگر پیشہ ور طبقے سے بھی ٹیکس وصولی کے اقدامات تیز کرنے چاہئیں۔

ولی محمد نورزئی نے جاری منصوبے میں فرم کی جانب سے کام ادھورا چھوڑنے پر برہمی کا اظہار کیا کمیٹی نے محکمہ کو ہدایت دی کہ متعلقہ فرم سے ریکوری کیا جائے، بصورت دیگر معاملہ اینٹی کرپشن یا نیب کے حوالے کیا جائیگا۔ کمیٹی ارکان نے کہا کہ اگر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو مستقبل میں ایسے مزید واقعات پیش آ سکتے ہیں۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہا کہ اگر آج ہم نے مجرموں کو بے نقاب نہ کیا تو کل مزید ایسے معاملات سامنے آئیں گے۔

انہوں نے سی ایم آئی ٹی کی کارکردگی پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے باوجود ذمہ داران کی نشاندہی نہ ہونا ناقص کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کے اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کو ہر ضلع میں دفاتر اور بجٹ کی فراہمی کی ضرورت ہے تاکہ وہ مؤثر انداز میں ریونیو میں اضافہ کر سکے۔

اجلاس میں چیئرمین پی اے سی علاوہ ممبران مجلس حاجی ولی محمد نورزئی، محمد خان لہڑی، غلام دستگیر بادینی، ڈی جی آڈٹ شجاع علی، سیکرٹری ایکسائز سید ظفر علی بخاری، ایڈیشنل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری لاء سعید اقبال، چیف اکاؤنٹس آفیسر پی اے سی سید ادریس آغا نے شرکت کی۔