کوئٹہ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی آف تربت نے صوبے کے دورافتادہ علاقے میں صنفی مساوات اور طالبات کی تعداد 45 فیصد تک پہنچانے کیلئے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صوبے کے اعلی تعلیمی منظرنامے میں ایک بہت ہی انوکھی مثال قائم کی ہے۔
تربت یونیورسٹی کے طلبا و طالبات یکساں طور پر محنتی اور سیکھنے کے بارے میں پرجوش ایک متحرک تعلیمی ماحول میں حصہ ڈالتے ہیں۔ کٹھن حالات اور محدود وسائل کا سامنا کرنے کے باوجود یونیورسٹی کا عروج براہ راست وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن اور ان کی پرعزم ٹیم کی دور اندیش قیادت کا نتیجہ ہے جنہوں نے تربت یونیورسٹی کو صوبے میں علمی کمالات کی روشنی کے طور پر قائم کرنے کیلئے انتھک محنت کی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاس کوئٹہ میں یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ گورنر بلوچستان نے یونیورسٹی آف تربت کے تیسرے کانووکیشن کے جلد انعقاد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مسقبل کے نئی ترجیحات اور نئے اہداف کے حصول میں کوالٹی ایجوکیشن آولین حیثیت رکھتی ہے. تربت یونیورسٹی کے قیام سے تربت اور دیگر متصل علاقوں کے نوجوانوں کیلئے ہائیر ایجوکیشن کے حصول کو ممکن بنانا خوش آئند ہے. ہمیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے اور دانشمندانہ پالیسیوں کی تشکیل دینے میں اہل دانش و بینش مدد و رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں. گورنر مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی آف تربت میں خواتین کی بڑی تعداد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان کی خواتین صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں ہیں لہذا ضروری ہے کہ انہیں یکساں مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ بھی ملک اور صوبے کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے سکیں.
ملاقات کے دوران یونیورسٹی کی کارکردگی، تعلیمی و مالی امور اور آئندہ کا لائحہ عمل بھی زیر بحث آئے.
انہوں نے ہدایت کی کہ یونیورسٹی میں سکِل ڈویلپمنٹ پروگرامز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ سے ہم آہنگ تعلیمی پروگرامز پر خصوصی توجہ دی جائیں
تاکہ فارغ التحصیل گریجویٹس اپنی عملی زندگی میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقی سرگرمیوں کو ملک کی معاشی اورمعاشرتی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے. قبل ازیں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے گورنر بلوچستان کو یونیورسٹی آف تربت کی سالانہ کارکردگی رپورٹ 2024 پیش کی۔