کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیرِ صدارت اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں اراکین اسمبلی حاجی ولی محمد نورزئی، فضل قادر مندوخیل، صفیہ بی بی، ڈائریکٹر جنرل آڈٹ بلوچستان شجاع علی، ایڈیشنل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایڈیشنل سیکرٹری لاء سعید اقبال، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ ہیلتھ محمد ثاقب خان, ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر غلام فاروق، ایم ایس سنڈیمن سول کوئٹہ ڈاکٹر ہادی کاکڑ اور چیف اکاؤنٹس آفیسر پی اے سی سید محمد ادریس سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں اسپیشل آڈٹ رپورٹ سنڈیمن پرووینشل ہسپتال کوئٹہ، محکمہ صحت کے آڈٹ پیراز زیر غور آئے، جن میں ادویات کی غیرقانونی خریداری، اسٹور سے دواؤں کی گمشدگی، آکسیجن سلنڈرز کی زائد نرخوں پر خریداری اور دیگر بے قاعدگیوں کے معاملات پر تفصیلی بحث ہوئی۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق اسپتالوں کی انتظامیہ نے مالی سال 2017 تا 2022 کے دوران 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات خریدیں، تاہم سپلائی آرڈرز اور بلز میں تضاد پایا گیا۔ ایک کمپنی کو آرڈر جاری کیا گیا جبکہ ادائیگی کسی دوسری کمپنی کو کی گئی۔
ریکارڈ میں اسٹاک رجسٹر اور معائنے کی رپورٹس بھی موجود نہیں تھیں۔محکمہ صحت نے وضاحت دی کہ ایم/ایس ہیلتھ ٹیک کوئٹہ، ایم/ایس فرنٹیئر ڈیکسٹروز لمیٹڈ پشاور کا مجاز ڈسٹری بیوٹر ہے، جس نے سپلائی اور ادائیگی کا عمل مکمل کیا تاہم کمیٹی نے وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔
چیئرمین اصغر علی ترین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی احکامات کو آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود نتیجہ صفر ہے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اگر فیصلہ نہیں مانتے تو ایف آئی آر درج کر کے رپورٹ کمیٹی کو ارسال کی جائے۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ جو افسر ریکارڈ فراہم نہیں کرے گا، اسے عہدے سے فارغ کر دیا جائے گا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے فورم کو مطمئن کرنا لازم ہے، صفیہ بی بی ممبر پی اے سی کے احکامت پر اگر محکمہ عمل درآمد نہیں کریگا تو سخت کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔
ولی محمد نورزئی اراکینِ کمیٹی حاجی ولی محمد نورزئی نے کہا کہ بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور آٹھ ماہ بعد بھی کوئی پیش رفت نہ ہونا افسوسناک ہے۔
کمیٹی نے حکم دیا کہ متعلقہ کمپنی اور فرنچائز کے ریٹس کا تقابلی جائزہ لیا جائے، نرخوں میں فرق ہوا تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال کوئٹہ کے اسٹور سے مالی سال 2019-20کے دوران 22.825 ملین روپے مالیت کی ادویات غائب پائی گئیں۔تحقیقات میں معلوم ہوا کہ سابقہ فارماسسٹ نے بیماری کے باعث بروقت انٹریاں درج نہیں کیں، جس سے ریکارڈ میں خلل پیدا ہوا۔
تاہم متعلقہ فارماسسٹ کی جانب سے آج تک مکمل ریکارڈ جمع نہیں کرایا گیا جوکہ باعث تشویش ہے۔
کمیٹی نے سیکرٹری صحت کو ہدایت دی کہ معاملے کی باقاعدہ انکوائری کر کے رپورٹ ایک ہفتے کے اندر پیش کی جائے اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت سلنڈرز کی قیمت 537 روپے مقرر تھی، تاہم وبائی دور میں مارکیٹ سے 40 ہزار روپے فی سلنڈر کے حساب سے خریداری کی گئی، جس سے حکومت کو 1.342 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔مزید یہ کہ تمام کوٹیشنز ایک ہی تحریر میں تیار کی گئی تھیں، جس سے شفافیت پر سوال اٹھتا ہے۔کمیٹی نے پیرا کو مؤخر کرتے ہوئے محکمہ صحت کو ہدایت دی کہ تمام ریکارڈ، معاہدے اور متعلقہ ریکارڈ کی اصل نقول کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔
چیئرمین اصغر علی ترین نے واضح کیا کہ مالی نظم و ضبط اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ہر ادارہ آئندہ اجلاس سے قبل اپنی مکمل رپورٹ جمع کرائے۔
محکمہ صحت کی طرف سے عدم تیاری پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا کہ اسپیشل آڈٹ رپورٹ کے مطابق 10443.433 ملین بجٹ کی آڈٹ کی گئی ہے اور پی اے سی کی سابقہ اجلاس منعقدہ مورخہ 14 فروری 2025 کو سیکرٹری صحت کی درخواست پر محکمہ کو موقع فراہم کیاگیا۔
اب آٹھ ماہ گزر نے کے باوجود بھی محکمہ صحت کی طرف سے کوئی بھی انکوائری نہیں کی گئی اور محکمہ کی طرف سے پی اے سی کی کسی بھی فیصلہ پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔جس پر کمیٹی نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے میٹنگ کو برخاست کیا اور محکمہ کو ایک ہفتہ کا ٹائم دیا کہ پی اے سی کے فیصلہ کے مطابق ڈی جی آڈٹ کو ریکارڈ فراہم کر ے اور فیصلوں پر عمل درآمد کرے، بصورت دیگر معاملات کو نیب یا دیگر انویسٹیگیشن ادروں کے حوالہ کیا جائیگا۔