|

وقتِ اشاعت :   November 9 – 2025

کوئٹہ :  گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک اچھی ترمیم ہے

لیکن ہر ترمیم کی بہت سے خوبیوں کے ساتھ ساتھ کچھ خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پائی جانے والی خامیوں کو درست کر لیا جائے تو اس سے سب کو فائدہ ہوگا۔ مثلاً تعلیم کے حوالے سے صوبوں کے استعداد کار بڑھانے سے پہلے ہائیر ایجوکیشن کا صوبوں کو منتقل کرنے کے بڑے نقصانات ہوئے ہیں.

تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز ایک مشترکہ قومی نصاب سے محروم ہوکر چاروں صوبوں میں اس وقت تعلیمی پالیسیوں اور معیارات میں یکسانیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے.

تعلیم کیلئے وفاقی بجٹ کی مختص رقم میں کمی کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کیلئے فنڈنگ کم ہو چکی ہے جس کے وجہ سے بلوچستان میں بھی پہلی بار یونیورسٹی کے اساتذہ کرام اپنی تنخواہوں کے حصول کیلئے احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے.

یہ سلسلہ بھی تعلیم کو صوبوں کو منتقلی کے بعد شروع ہوا. ریسرچ فنڈنگ کی کمی کی وجہ سے نئی ریسرچ اور جدت کی رینکینگ پر منفی اثرات مرتب ہو چکے ہیں.

اس وقت یونیورسٹیوں کے پاس ریسرچ کیلئے مناسب فنڈز نہیں ہیں. صوبے میں بعض لوگ تعلیم کیلئے فنڈز کی فراہمی کو ایسا سمجھتے ہیں جیسے وہ اپنی جیب سے دے رہے ہوں۔

ماضی میں اسی طرح نیشنل ہائی وے اور واپڈا کے ذریعے سڑکوں کی تعمیر معیار کے لحاظ سے بہت بہتر تھی اور کرپشن نہ ہونے کے برابر تھی جس کی سب سے بڑی مثالیں میرانی اور سبک زئی ڈیمز ہیں۔.

یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے کہی۔ ایک سوال کے جواب میں گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو بیروزگاری کے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

صوبے میں محدود صنعتی اور زرعی شعبوں کے باعث زیادہ تر نوجوان سرکاری نوکریوں کے حصول پر انحصار کرتے ہیں. سردست حکومت لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی کیونکہ اس وقت بھی صوبائی بجٹ کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی تنخواہوں کی طرف جاتا ہے جس سے ترقیاتی اقدامات کیلئے فنڈز کی کمی رہ جاتی ہے۔

اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ایک وقت ایسا آئیگا کہ ہمارے پاس ترقیاتی منصوبوں کیلئے کوئی رقم دستیاب نہیں ہوگی۔

بیروزگاری کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے موجودہ حکومت معاشی ترقی کو تیز کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دے رہی ہے جو کہ بلوچستان کی خوشحالی اور استحکام کیلئے بہت ضروری ہے۔ گورنر مندوخیل نے بلوچستان کی خوبصورت کوسٹل بیلٹ، ڑوب کے سرسبز زیتون کے جنگلات اور زیارت اور ہربوئی جیسے پرکشش مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صوبہ بلوچستان سیاحت کی بیپناہ صلاحیتوں کا حامل ہے۔

یہ قدرتی عجائبات اور سیاحتی مراکز دنیابھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں، سیاحت کی ترقی کو ترجیح دیکر بلوچستان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں، مقامی معیشت کو مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔

گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ گندم کی خریداری اور انتظام کے حوالے سے پاکستان ایگریکلچر سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (PASCO) کا بہت اہم کردار تھا لیکن اسکے خاتمے کے ملک بھر کے زمینداروں پر بھی منفی اثرات پڑے۔ انہوں نے فوڈ سیکورٹی کے استحکام کے حوالے سے پاسکو ایک اچھا ڈیپارٹمنٹ تھا۔