کوئٹہ : بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزادکے مرکزی ترجمان نے تنظیم کے سابقہ وائس چیئرمین زاکر مجید بلوچ کی اغواء نما گرفتاری کو سات مکمل ہونے کے باوجود تاحال عدم بازیابی کے خلاف 8جون کو تمام زونوں میں ریفرنسز کے انعقاد اور کراچی پریس کلب کے سامنے یک روزہ بھوک ہڑتالی کیمپ منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ زاکر مجید بلوچ کی طویل گمشدگی مہذب ممالک و عالمی تنظیموں کی غیر جانبدار حیثیت پر سوالیہ نشا ن ہے۔ ترجمان نے کہا کہ زاکر مجید بلوچ، زاہد بلوچ، ڈاکٹر دین محمد، رمضان بلوچ، غفور بلوچ، آصف قلندرانی، مشتاق بلوچ، سمیع مینگل سمیت ہزاروں سیاسی کارکنان گزشتہ کئی سالوں سے فورسز کی خفیہ اذیت گاہوں میں غیر انسانی تشدد برداشت کررہے ہیں۔ فورسز سیاسی قیدیوں کو لاپتہ کرنے و ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے میں براہ راست ملوث ہیں۔ زاکر مجید بلوچ کی گرفتاری کا زمہ دار عدالت نے کو قرار دے کر کئی مرتبہ ان کی بازیابی کا حکم دے چکی ہے لیکن فورسز بلوچ سیاسی اسیران کی گمشدگی میں کمی لانے کے بجائے اس طرح کی کاروائیوں میں روزانہ وسعت لارہے ہیں۔ نصف دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود نہ صرف اغواء شدہ طلباء و سیاسی اسیران کو بازیاب کیا جارہا ہے اور نہ ہی اغواء کاری کا سلسلہ روکھا جا سکا ہے، بلکہ مغوی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ گزشتہ نصف دہائی کے عرصے میں بی ایس او آزاد کے 100سے زائد کارکنان و لیڈران کو اغواء کے بعد لاشیں پھینکنے کی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ فورسز سیاسی پارٹیوں کے سینکڑوں کارکنان و عام لوگوں کو اغواء کے بعد قتل کر چکے ہیں۔ سیاسی سرگرمیوں پر پابند عائد کرکے ریاستی ادارے بلوچ عوام و سیاسی پارٹیوں کے درمیان فاصلہ قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے گماشتوں کے ذریعے بلوچ عوام و نوجوانوں کو سیاسی تعلیم سے دور رکھا جا سکے۔ بی ایس او آزاد کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں نیشنل پارٹی کی جلسوں میں بلوچ عوام کے قتل و اغواء میں ملوث فورسز کی گاڑیوں کا استعمال اس بات کا اظہار ہے کہ بلوچستان میں پارلیمانی جماعتیں فورسز کی جانب سے ایک طے شدہ پروگرام پر عمل پھیرا ہیں ۔ بی ایس او آزاد نے تمام زونوں کو تاکید کی کہ وہ 8جون کو زاکر مجید بلوچ و بلوچ اسیران کی یاد میں ریفرنسز کا انعقاد کریں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ #SaveZakirMajeedBaloch کا استعمال کرکے سیاسی کارکنوں کے اغواء کے مسئلے کو ہائی لائٹ کریں۔