|

وقتِ اشاعت :   November 10 – 2025

اسرائیلی وزیراعظم کی ترجمان  شوش بیڈروسیئن نے اسرائیل کے مؤقف کو  ایک  بار  پھر دہراتے ہوئے واضح کیا ہےکہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی  فورس میں ترکیے کے فوجی دستوں کے شامل کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اسرائیل اس سلسلے میں امریکا پر بھی واضح کرچکا ہے کہ  غزہ میں  تعینات ہونے والے فوجی دستوں میں ترکیے کی فوج کو بالکل قبول نہیں کیا جاسکتا۔

صحافیوں سے گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم  آفس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ  غزہ کی زمین پر کسی ترک فوجی کا پاؤں نہیں لگےگا۔ 

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ امریکی منصوبے کے تحت غزہ میں ترک فوج کی موجودگی کو قبول نہیں کرےگا۔

گزشتہ ماہ ہنگری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار کا کہنا تھا کہ جو ممالک غزہ میں اپنی فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں انہیں کم ازکم اسرائیل کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

 اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اردوان کی قیادت میں ترکیے نے اسرائیل کے خلاف دشمنی کا رویہ رکھا ہے، اس لیے ہمارے لیے یہ قابل قبول نہیں کہ ہم ان کی مسلح افواج کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے دیں، ہم اس پر متفق نہیں ہوں گے اور ہم نے اپنے امریکی دوستوں کو بھی یہ بات صاف طور پر کہہ دی ہے۔