کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بدھ کو پچاس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں ہوا۔
اجلاس میں چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے تحریک پیش کی کہ مجلس کی رپورٹ برایگزامینیشن آف اسپیشل آڈٹ رپورٹ آن دی اکائونٹس آف چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ برائے مالی سال2017-18تا2021-22آڈٹ سال2022-23کومجلس کی سفارشات کے بموجب قاعدہ1جسے قاعدہ17149(3)کے ساتھ پڑھاجائے کے تحت منظورکیاجائے۔بعدازاں تحریک منظورکی گئی۔
صوبائی وزیرتعلیم راحیلہ حمیددرانی نے کہاکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا تعلق میرے محکمے سے ہے تاہم مجھے اس رپورٹ کی کاپی نہیں ملی میں نے ذاتی حیثیت سے بھی درخواست کی تھی کہ جب متعلقہ محکمہ کے حوالے سے پی اے سی کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے تو اس میں متعلقہ وزیر کو بھی بلایا جائے اور جب رپورٹ ایوان میں پیش کی جاتی ہے تو کم سے کم اس کی کاپی ہی فراہم کی جائے تاہم مذکورہ رپورٹ کی کاپی مجھے فراہم نہیں کی گئی۔
چیئرمین پبلک اکائو نٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے کہاکہ متعلقہ وزیرکوپی اے سی کے اجلاس میں بلانے کا کوئی قانون نہیں پھربھی اگر کوئی آنا چاہیں ہے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں انہوں نے کہاکہ وزیر تعلیم اپنے محکمے کے متعلقہ آفیسران سے گلہ کرے جو اس کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔
اجلاس میں صوبائی وزیرمنصوبہ بندی وترقیات میرظہوربلیدی نے وزیربرائے محکمہ بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تحریک پیش کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان سیف اینڈ انوائرمینٹل ساؤنڈ ری ساکلنگ آف شپس کا مسودہ قانون مصدرہ2025مسودہ قانون نمبر30مصدرہ2025کومجلس کی سفارشات کے بموجب منظور کیاجائے جسے منظور کیاگیا۔اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی عبدالمجید بادینی نے بلوچستان جویڈیشل اکیڈمی کاترمیمی مسودہ قانون مصدرہ 2025مسودہ قانون نمبر39مصدرہ2025ایوان میں پیش کی جسے اسپیکر نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کیااجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے محکمہ سوشل ویلفیئر بلوچستان حاجی ولی محمدنورزئی نے تحریک پیش کی کہ بلوچستان انسدادگداگری کامسودہ قانون مصدرہ2025مسودہ قانون نمبر40مصدرہ2025کوپیش کرنے کی بابت قاعدہ 84اور85(2) کے تقاضوں سے مستثنیٰ قراردیکر فی الفور زیرغورلایاجائے،
جس پراسپیکر نے کہاکہ آپ کیوں استثنیٰ مانگ رہے ہیں؟حالانکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات ہیں کہ مسودہ قوانین کومتعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کیاجائے۔پارلیمانی سیکرٹری حاجی ولی محمدنورزئی نے کہاکہ مذکورہ بل کافی عرصہ سے التو اء کاشکارہے لہذا اس کوقائمہ کمیٹی میں بھیجنے کی بجائے ایوان کی اکثریتی رائے سے منظورکیاجائے۔پیپلزپارٹی کے رکن علی مددجتک نے کہاکہ گداگروں نے شہریوں کوتنگ کیاہواہے یہ لوگ چوریاں بھی کرتے ہیں اور بیک بھی مانگتے ہیں لہذا اس مسودہ قانون کو ایوان کی اکثریتی رائے سے منظور کیاجائے،پیپلزپارٹی کی رکن مینامجیدنے کہاکہ گداگری شہرکاایک اہم مسئلہ بن گیاہے بی این پی عوامی کے رکن میراسداللہ بلوچ نے کہاکہ مسودہ قانون کومتعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرکے اس پر بحث اورتمام پہلوں کاجائزہ لینے کے بعد اس کامستقل حل نکالاجائے،حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مسائل کاحل تلاش کرے نہ کہ پولیس گداگروں کوبند کرے۔ن لیگ کے رکن زرک مندوخیل نے کہاکہ قائمہ کمیٹیوں کے پاس اوربھی کام ہیں یہاں لوگ گداگروں کی وجہ سے شدیدتنگ ہے لہذا مسودہ قانون کوایوان کی اکثریتی رائے سے منظور کیاجائے۔ جمعیت کے رکن غلام دستگیربادینی نے کہاکہ گداگروں کی پکڑ دھکڑ سے آیا یہ مسئلہ حل ہوجائیگا کوئٹہ کے سٹی نالہ میں بڑی تعدادمیں لوگ منشیات میں مبتلاہیں انہیں ان کاعلاج معالجہ کیاجائے نشے کے عادی لوگ چوریاں کرتے ہیں
انہوں نے کہاکہ مسودہ قانون کواناکامسئلہ نہ بنایاجائے بلکہ اسے متعلقہ کمیٹی کے سپردکیاجائے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی نے اسپیکر سے استدعاکی کہ وہ مسودہ قانون کومتعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرے جس پر اسپیکر نے مسودہ قانون کومتعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی رولنگ دی۔اجلاس میں محکمہ کیوڈی اے اورمحکمہ افرادی قوت سے متعلق سوالات اسپیکرنے وزراء کی عدم موجودگی کے باعث آئندہ اجلاس تک کیلئے موخرکر دیئے۔اجلاس میں قائدحزب اختلاف میریونس علی زہری نے اسپیکر کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہاکہ وضاحت کی جائے کہ آیاپارلیمانی سیکرٹریز کومحکمے الاٹ ہوسکتے ہیں یا نہیں ایسا اس طرح کوئی قانون ہے کیونکہ سرکاری کارروائی کے دوران پارلیمانی سیکرٹریزکووزیرظاہرکیاگیاہے اسپیکر نے کہاکہ پارلیمانی سیکرٹریزکے محکموں کاچارج وزیراعلیٰ کے پاس ہے اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان ایوان کوآگاہ کریں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ پارلیمانی سیکرٹری محکمے کوپالیسی نہیں دے سکتا اس کاپارلیمان کے اندر سوالوں کے جواب میں وزیراعلیٰ کی مدد کرناہے،پارلیمینٹ میں محکمے کابزنس چلاناہے ہم نے کہیں پارلیمانی سیکرٹریز کووزیرنہیں کہااورنہ لکھاہے
وزیراعلیٰ کی صوابدید ہے کہ وہ کسی بھی رکن کومحکمے کاانچارج بناسکتاہے۔بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن فرح عظیم شاہ نے کہاکہ 27ویں آئینی ترمیم سے اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہواہے انہوں نے کہاکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے ملک کو سفارتی محاذ پرکامیابی دلائی اپنے سے دس گناہ بڑے دشمن بھارت کومنہ تھوڑ جواب دیاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہواہے عالمی سطح پر پاکستان کی تنہائی ختم ہوئی ہے اس تمام کاسہرافیلڈ مارشل کے سر جاتا ہے وہ پاکستان کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ آئینی ترمیم کے تحت وفاقی عدالتوں کے قیام سے لوگوں کو تیز ترین انصاف کی فراہمی ممکن ہوئی ہے
سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمات کادباؤ بھی ختم ہوگیاہے ہم اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام کے رکن اسمبلی شاہدہ رؤف نے نقطہ اعتراض پراظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ شہر میں جاری تعمیراتی منصوبو ں کے طویل ہونے سے لوگوں کوذہنی کوفت ہورہی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان بغیر کسی پروٹوکول کے سفر کرے ایک بھی شاہراہ ایسی نہیں جو توڑ پھوڑ کاشکارنہ ہو،انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان سے استدعاکی کہ وہ کوئٹہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کوجتنی جلدی ہوسکے
مکمل کرائیں انہوں نے کہا تعمیراتی منصوبوں کاملبہ سڑک پرپڑاہونے سے شہریوں کوسفر کرنے میں دشواریاں پیش آتی ہیں جس پر اسپیکرعبدالخالق اچکزئی نے رولنگ دیتے ہوئے کمشنرکوئٹہ ڈویڑن جوکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین بھی ہیں کوآج اسمبلی میں طلب کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے اسمبلی بھی اسمبلی آئے تاکہ انہیں بھی اس حوالے سے تفصیلی کیاجاسکے۔
بی اے پی کے رکن اسمبلی آغا عمراحمدزئی نے نکتہ اعتراض پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ سریاب میں انتقامی کارروائی ہورہی ہے چوبیس گھنٹوں میں چارگھنٹے بجلی دی جارہی ہے وہ بھی سنگل فیزکی جاتی ہے آیا اس کی کیاوجہ ہے؟کیسکوحکام اپنی من مانی کررہے ہیں جب انہیں فون کیاجاتاہے تو وہ لوگوں سے بدتمیزی کرتے ہیں گیس کا بھی یہی حال ہے
یہ صرف سریاب کامعاملہ نہیں پورے شہر کامعاملہ ہے انہوں نے ایوان سے واک آؤٹ کیاپیپلزپارٹی کے رکن علی مدد جتک نے کہاکہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی سربراہی میں سوئی سدرن گیس حکام کواسمبلی میں طلب کیاگیاتھا انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ دس دن کے اندر اس مسئلے کوحل کیاجائیگا تاہم یہ مسئلہ اب تک جوں کا توں ہے، اسپیکر نے حاجی علی مدد جتک اورحاجی ولی محمدنورزئی کوآغا عمراحمدزئی کوواپس لانے کیلئے بھیجا۔پارلیمانی سیکرٹری عبدالمجید بادینی نے کہاکہ وفاقی حکومت نے گیس کنکشنزبحال کرنے کا اعلان کیاتھاتاہم جو گیس میٹرزپہلے پانچ ہزار روپے میں لگ رہے تھے
اب وہ میٹرتیس سے چالیس ہزارروپے میں لگ رہے ہیں،گیس استعمال نہ کرنے کے باوجود لوگوں کولاکھوں روپے کے بل ارسال کئے جا رہے ہیں انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کوطلب کیاجائے۔جمعیت کے رکن اسمبلی اصغر علی ترین نے کہاکہ اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ہم اسمبلی میں گرمیوں کے دوران بجلی اور سردیوں کے دوران گیس کیلئے روتے رہتے ہیں، گیس نہ ہونے کے باعث متبادل ایندھن بھی نہیں جسے لوگ بروئے کار لائیں،
کیسکو اتنی ناہل ہے کہ اگر ایک ٹرانسفار مر جل جائے تو اس کے متبادل ان کے پاس نہیں ٹرانسفارمر بننے کے انتظار میں لوگ دو دو تین تین ہفتے اندھیرے میں بیٹھے رہتے ہیں،
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں گیس لوگوں کی ضرورت نہیں بلکہ ان کی زیست ومرگ کا مسئلہ ہے۔ اسپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان اس سلسلہ میں وفاق سے بات کریں۔