کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے چیف منسٹر یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور موصولہ شکایات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری اور غیر جانبدارانہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے
وزیر اعلیٰ نے پروگرام سے متعلق بعض منفی رپورٹس پر شدید ناراضگی و برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نوجوانوں کے لیے شروع کیے گئے فلاحی پروگرامز میں کسی قسم کی بدانتظامی یا غیر شفافیت برداشت نہیں کی جائے گی پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ پروگرام کے نفاذ، شفافیت، مستفید ہونے والوں کے انتخاب اور مجموعی افادیت سے متعلق سنجیدہ سوالات سامنے آئے تھے
جس کے باعث حکومت بلوچستان نے معاملہ فوری طور پر چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کو ارسال کر دیا ہے ہدایت نامے کے مطابق وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سی ایم آئی ٹی کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ پروگرام کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرے رپورٹ میں حقائق کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ نفاذ کرنے والے محکموں میں احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں اصلاحات سے متعلق ٹھوس سفارشات شامل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے
کہ انکوائری رپورٹ براہِ راست ان کے ذاتی مطالعے کے لیے پیش کی جائے گی جس کی روشنی میں مزید قانونی و انتظامی فیصلے کیے جائیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی ترقی، ہنر مندی اور بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے مشن پر سنجیدگی سے کاربند ہے اسی لیے عوامی وسائل کے شفاف اور منصفانہ استعمال کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے تمام پروگرامز میں شفافیت کو اولین ترجیح دیتی ہے اور کسی بھی بے ضابطگی یا غفلت سے سختی سے نمٹا جائے گا صوبائی حکومت کے اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کے لیے متعارف کیے گئے اس اہم پروگرام کو زیادہ مؤثر، منصفانہ اور عملی طور پر فائدہ مند بنانا ہے، تاکہ صوبے کے نوجوان حقیقی معنوں میں ترقی کے بہتر مواقع سے مستفید ہوسکیں۔